نواز شریف تیزی سے انجام کی طرف بڑھنے لگے

نواز شریف تیزی سے انجام کی طرف بڑھنے لگے


اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیر اعظم نواز شریف نااہلی کے بعد مسلسل مشکلات کا شکار ہیں،28جولائی 2017ءکو وزیر اعظم شپ سے ہاتھ دھو بیٹھے ساتھ ہی ساتھ پارٹی صدارت بھی چھن گئی،پارلیمنٹ سے قانون پاس کروا کر دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر بنے تو سپریم کورٹ نے فارغ کردیا ،اب چونکہ پارٹی قائد ہیں لیکن وہ حیثیت نہیں جو بطور صدر تھی۔

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں،نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے،نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھئے:  نواز شریف نے عمران خان کو بڑی پیشکش کر دی

جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں،شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے ٹرائل کا آغاز 14 ستمبر 2017 کو ہوا اور سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی 6 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ڈیڈلائن 13 مارچ کو ختم ہورہی ہے،احتساب عدالت کے جج نے ٹرائل مکمل کرنےکی مدت میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جب کہ سپریم کورٹ کا خصوصی بینچ ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں توسیع کے لیے آج سماعت کرے گا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دو نیب ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی،سابق وزیر اعظم ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیس کی سماعت کیلئے احتساب عدالت پہنچ چکے ہیں،اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز کی سماعت کریں گے،عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے جب کہ گزشتہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کیے جا سکے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا اینڈ قونصلر اتاشی راو عبدالحنان پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی تھی۔