شریف خاندان سے نمٹنے کیلئے سپریم کورٹ نے جسٹس محمد بشیر کو کیا حکم دیدیا؟

شریف خاندان سے نمٹنے کیلئے سپریم کورٹ نے جسٹس محمد بشیر کو کیا حکم دیدیا؟


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز نمٹانے کیلئے مزید 2 ماہ اوراسحاق ڈار کے ریفرنس کیلئے 3 ماہ کی مہلت دے دی، چیف جسٹس آف پاکستان نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن 10 مارچ تک جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز 6 ماہ میں نمٹانے کے معاملے پرجسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ احتساب عدالت نے وجوہات بتائیں لیکن درکار وقت نہیں بتایا۔یہ بتایا جائے کہ کتنا وقت چاہیئے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے بتایا کہ شریف خاندان کے ریفرنسز کیلئے 2 ماہ کافی ہوں گے۔ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے۔ 3 ریفرنسز کے بیشتر گواہان کا بیان ریکارڈ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ میں ججز ، سرکاری افسران کی دوہری شہریت پرازخود نوٹس کیس کی سماعت

 علاوہ ازیں عمران الحق نے بتایا کہ اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس میں وقت لگے گا۔ اسحاق ڈار مفرور ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نےپوچھا کہ استغاثہ کی ذمہ داری کون سر انجام دے رہا ہے۔ اسحاق ڈار مفرور ہوکربھی سینیٹر کیسے بن گئے۔ جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا عدالتی مفرور کا کوئی حق نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ نےشریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز نمٹانے کیلئے مزید 2 ماہ جبکہ اسحاق ڈار کے ریفرنس کیلئے 3 ماہ کی مہلت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں:صادق و امین کا پول کھل گیا، عمران خان کی بنی گالا رہائشگاہ کا این او سی جعلی

 دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری قانون کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن 10 مارچ تک جاری کرنے کا حکم دے دیا۔سابق وزیراعظم نوازشریف ان کے بچوں اور داماد کیخلاف لندن فلیٹس، العزیزیہ اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت جج محمد بشیر کر رہے ہیں۔