اگلا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا؟ پی ٹی آئی نے سرپرائز دے دیا


اسلام آباد (24 نیوز) سینیٹ کا اگلا چیئرمین کون ہو گا؟ اس وقت یہ سوال ہر پاکستان کی زبان پر موجود ہے۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس حوالے سے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔

ایک وفاق میں حکومت بنانے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ہے جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ گیم اِن ہے۔ ن لیگ کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے نام بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’بابا رحمتے کا کہا قانون نہیں ہو سکتا‘‘ چیئرمین سینیٹ کا چیف جسٹس کے خلاف اعلان جنگ 

پاکستان کی سب بڑی اور جمہوری سیاسی جماعت پیپلزپارٹی نے ن لیگ کی پیشکش مسترد کر دی اور ن لیگ کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے دیا گیا نام مسترد کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سرپرائز دے دیا۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی حمایت قبول کرے گی یا نہیں؟ اس فیصلہ کا بھی سب کو بے صبری سے انتظار ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے پر معاملہ  نواز شریف اور اتحادیوں کی نئی چالوں کا پول کھل گیاہے۔ پیپلز پارٹی نے چئیرمین سینیٹ کا امیدوار لانے کے فیصلہ پر اثر انداز ہونے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔

ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے اپنی طرف سے رضا ربانی کو امیدوار سمجھ لیا۔ اگر رضا ربانی امیدوار ہوں تو حمایت کا سوچا جا سکتا ہے۔ اتحادی نواز شریف کی تجویز کے حامی ہیں۔

سینٹ الیکشن:کس نے کس کو کتنے میں بیچا؟ رانا ثنا اللہ نے بڑا انکشاف کر دیا 

اس حوالے سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف نے پارٹی رہنماوں کے ساتھ مل کر نمبر گیم پر بھی غور کیا۔ 54 ارکان کی حمایت کا یقین ہونے کے بعد اجلاس ختم کیا گیا۔ مطلوبہ تعداد ملنے کے باوجود دیگر پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں کی ذمہ داریاں لگائی گئیں۔

24 نیوز کے مطابق نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے۔ نوازشریف نے رضا ربانی کو پیپلز پارٹی کا امیدوار بنانے کی صورت میں حمایت کا اعلان کر دیا تاہم آصف زرداری نے ن لیگ کی تجویز مسترد کر دی۔

اہم خبر :نواز شریف نے عمران خان کو بڑی پیشکش کردی 

نوازشریف کی زیرصدارت ن لیگ اوراس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ میاں نوازشریف نے چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کی تجویزدی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے رضا ربانی کو نامزد کرنے کی صورت میں ان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔اجلاس کے بعد میر حاصل بزنجو نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ میں ان کی اتحادی جماعتوں کو 54 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر آصف زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کا نام تجویزکیا۔ آصف زرداری نے رضا ربانی کو اپنا امیدوار بنانے سے صاف انکار کر دیا۔

لازمی پڑھئے:نواز شریف کی دلی خواہشات کیا ہیں؟ بلاول بھٹو نے پول کھول دیا

یہ بھی واضح رہے کہ سینیٹ کے نومنتخب ارکان 11مارچ کو حلف اٹھائیں گے۔ 12مارچ کو نئے چیئرمین کا انتخاب ہوگا۔ سینیٹ کی دوبڑی جماعتوں میں کوئی اتفاق نہ ہواتو چیئرمین کے انتخاب کے لیے دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔

مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں: