شکریہ بھارت

غزل جاوید

شکریہ بھارت


آزادی کے بعد سے پاک بھارت تعلقات تناؤٔ کاشکارہیں۔ بھارت کی آنکھ میں پاکستان تقسیمِ ہند سے ہی کھٹک رہاہے۔ رقبے،آبادی، معاشی ذرائع اوردیگرمعاملات میں بڑے وسائل رکھنے کے باوجود زہرِمیں بجھے بیانات شروع دن سے بھارت کا خاصہ رہےہیں۔ معمول ہوچکا ہے کہ پڑوسی ملک میں پٹاخہ بھی پھٹے تو الزام پاکستان پر ہی لگایا جاتا ہے ۔پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے جو رویہ اپنایا وہ قطعی غیر متوقع نہیں تھا۔

کشمیر میں خودساختہ دہشت گرد حملہ جسے بھارتی تجزیہ کاروں کی اکثریت نے بھی مودی کا الیکشن سٹنٹ قرار دیا کو زبردستی پاکستان کے سر تھونپا گیا۔ بعدازاں بے سروپا اور گھٹیا الزام میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے 26 فروری کو بالاکو ٹ کے قصبےجابہ میں ڈرتے ڈرتےایک بے سروپا کارروائی بھی کی ،جس پر بھارت بھر میں خوب بگلیں بجائی گئیں۔ سرحدی خلاف ورزی اور دراندازی کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اگر دہشتگردی کیخلاف سنجیدگی اختیار نہ کی تو پاکستان کومزید سخت نتائج کاسامنا ہوسکتا ہے۔ پلوامہ حملے سے دنیا کی نظروں میں بھارت نے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی ، باوجود اس کے کہ بھارت کے پاس پاکستان کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ بالاکوٹ میں رات کی تاریکی میں طاقت کے بزدلانہ مظاہرے سے جہاں بھارت کی مکاری وعیاری بے نقاب ہوئی وہیں اس کی فوجی برتری کا دعویٰ بھی زمین بوس ہوگیا۔ بظاہر یہ ظاہر کر نے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں کارروائی اپنے دفاع میں کی گئی ہے۔ حالانکہ ایسا تھانہیں اور دنیا نے بھی یہ موقف تسلیم نہیں کیا ۔حملے سے پاک بھارت تعلقات انتہائی کشیدہ ہوئے جس پربھارتی میڈیا نے جلتی پر تیل ڈالا اور اس آتش کو مزید بھڑکیا اور جنگ کی سی فضاء قائم کرنے میں کوئی کسراٹُھا نہ رکھی ۔بھارتی چینل دیکھئےتو ایسا محسوس ہوتا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں شاید جنگ ،کوئی بڑی کارروائی یا حملہ ممکن ہے جوکہ دونوں ممالک کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔بہرحال پاک فوج نے بروقت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرکے دوبھارتی طیاروں کو تباہ کیا اورایک پائلٹ کوزندہ حراست میں لیا۔اس موقع پربھارتی میڈیا نے ایک بار پھر بہت آگ اُگلی جس نے پاکستان میں بھی بھرپور ردعمل دیا۔

پلوامہ سے لیکر ابھی نندن تک کے واقعات اور ان سب پر بھارتی ردعمل نے پورےپاکستان کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ نتیجتاً اندرونی رنجشیں، سیاسی اختلافات، نسلی تفریق ،مذہبی فاصلے سب سمٹ گئے اور پوری قوم ایک پیج پر آگئی ۔ قوم نے مہنگائی سے لیکرسیاسی انتقام کی سب کہانیوں کو پس پشت ڈال کر ملکی دفاع پر نظریں گاڑھ لیں۔عوام کی جانب سے بے مثال یکجہتی کےمظاہرے اور ہر فورم پرحکومت اورپاک فوج کاساتھ دے کر دنیا کویہ پیغام پہنچایا گیاکہ پاکستان امن کاداعی ہےاور وہ کسی قسم کی لڑائی یاجنگ نہیں چاہتا ، لیکن اگر کسی نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔ اس موقع پرپاکستان نے یہ سچ بھی کر دِکھایاکہ بحران اور شدید کشیدگی میں قومی یکجہتی اور بے مثال فیصلے ہمارا خاصہ ہیں اورایسا پہلی بار نہیں ہوا۔

۱۹۶۵میں جب بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی اور وقت کی بھارتی سیِنا کے سربراہ نے لاہورکے جم خانہ میں چائے پینے کااعلان کیا توپوری قوم پاک فوج کی پشت بان ہوگئی۔فوجی جوان ماتھے کا جُھومر بن گئے ،سرحدوں کے قریب رہنے والوں نے دیِوانہ وار مشرقی بارڈر کی جانب قدم بڑھایا۔مشکل کی اس گھڑی میں کیاامیر،کیاغریب،مزدور،ہنرمند،سرکاری افسر،فنکار،طلباء،کھلاڑی الغرض پوری قوم یکجہتی کی تسبیح بن گئی ۔ گوکہ جنگ کی بنیاد رن آف کحچھ کے ویران علاقے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی جھڑپ سے رکھی گئی ۔اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ جنگ ایک چھوٹی سی کچی سڑک کی بناء پر ہوئی جوپاکستان کے حق میں حکمتِ عملی کے اعتبار سے فائدے مند تھی اور بھارت کی جانب سے حسب روایت اس کی شدید مخالفت کی گئی۔ دشمن ملک نے اس جھڑپ سے جنگ تو شروع کردی لیکن اسکا خمیازہ بھی اسی کی فوجوں کو بھگتنا پڑا جو کہ کافی خوفناک ثابت ہوا۔ یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی بڑی جنگ تھی جس میں لگ بھگ چھ سو کے قریب ٹینکوں نے حصہ لیا اور پاکستان نے جنگ کے میدان کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔

قوم کے جذبہ حب الوطنی کے بے مثال اظہار کی تاریخ 2019میں بھی دہرائی گئی ، بھارتی حملے سے قبل سیاسی ،نسلی اور علاقائی اختلافات ، مسائل کے حل نہ ہونے پر بے چینی عروج پر تھی مگر بھارتی حماقت قوم کیلئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی ۔ ایسے ہی جیسے 1965میں ہوا۔ عوام متحد ہوگئی اور پاک فوج کی بھرپور حمایت کی ۔گزشتہ انتخابات کے بعد سے سیاسی جماعتوں اور ملٹری قیادت چندحوالوں سے اختلافات کےباوجود موجودہ صورتحال میں ایک پیج پر آگئے ۔ یہی نہیں چھ ماہ کے دوران پہلی باراپوزیشن جماعتوں کوعسکری قیادت کے ساتھ بیٹھنے کا موقع بھی میسر آیا۔ اس سب کیلئے اگر بھارت اور خاص کر مودی کی کاوشوں کا ذکر نہ کیا جائے تو یقیناً زیادتی ہوگی۔ مشرقی بارڈر کے اس پار سے کی جانے والی اوٹ پٹانگ حرکتوں ، زہر یلے پرو پیگنڈے اور توہین آمیز لب ولہجے نے ہمیں کم از کم متحد ویک زبان تو کردیا۔ اس سب کیلئےشکریہ بھارت ! تم نے ہم من موجیوں کو ایک بار پھر سے متحد کردیا ، فوج ، عوام اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے اور متوازن موقف اپنانے سے پاکستان کے امن کے داعی ہونے کو بھی ایک نئی پہچان لی اور دنیا بھر میں پاکستان کاتاثر ایک ذمہ دار قو م کے طور پر ابھر کرسامنے آیا۔۔۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔