احسن اقبال پر حملہ،نواز شریف نے اہم انکشاف کردیا


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے سلسلہ میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔
میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ آج ہماری 62 ویں پیشی ہے، پہلے 6 مہینے گزرے، پھر 2 ماہ کی توسیع ہوئی، اب 2 ماہ بھی گزر گئے، میرا خیال ہے کہ اگر اس کیس میں کوئی جان ہوتی، یا یہ الزمات درست ہوتے تو کیس 8 مہینے نہ لیتا بلکہ 8 ہفتوں میں فیصلہ ہوجاتا،نیب کو ہمارے خلاف ثبوت نہیں مل رہے، ہمیں بتا دیں ہم ہی کچھ ڈھونڈ کر لے آئیں،میں نے اپنے وکیل سے مشورہ کیا ہے کہ کیا اب ہمیں بریت کی درخواست دائر کردینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال پر فائرنگ کی ویڈیو 24نیوز کو موصول

انہوں نے کہا ہے کہ کیا اس کیس کو اس وقت تک کھینچا جائے گا کہ جب تک کوئی ایسی چیز نہ سامنے آجائے، جس پر نواز شریف کو سزا دی جائے،جب کچھ نہیں ہے تو اس کیس کو ختم ہوجانا چاہیے، یہ سب یکطرفہ ہے اور انشاء اللہ قوم جلد اس کا فیصلہ کردے گی۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ '2013 میں احتساب کا عمل شروع ہوا، یہ عمل ایک بندے تک محدود نہیں رہے گا، جو جو جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا مرتکب ہوا، سب کی باری آنی ہے اور آئندہ اس احتساب کے عمل سے نکلنا مشکل ہوگا،اس ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں اور سول سرونٹس کا ہی ہوتا ہے، لیکن اب احتساب کا عمل سب پر لاگو ہوگا اور سب کی باری آئے گی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے 2013 کے الیکشن کے حوالے سے بیان کا نوٹس لیا جانا چاہیے،اصغر خان کیس میں بھی سب کے نشانے پر نواز شریف ہی ہے جبکہ میں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، دہشت گردی کا خاتمہ کیا، میں نے ضرب عضب کا اعلان پارلیمنٹ میں خود کیا تھا،الیکشن 2018 کو کسی قیمت پر ملتوی نہیں ہونے دیں گے، پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، پارلیمنٹ کا کردار موثر کرنا ہوگا، نیا نظام ضرور آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال کا آپریشن کامیاب، حملہ آور کے خلاف مقدمہ درج
واضح رہے کہ چند روز قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو فوج کی مدد حاصل تھی۔ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر داخلہ پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ نوبت یہاں تک پہنچنا انتہائی افسوسناک ہے، حال ہی میں سیاستدانوں کی سکیورٹی واپس لیے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل سیکیورٹی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ کو اس طرح کے معاملات کا نوٹس لینا چاہیے۔