عرب شہزادی کوزمیں نگل گئی یا آسمان کھاگیا،دنیا کی تشویش بڑھنے لگی


دبئی(ویب ڈیسک)گھر سے بھاگنے والی عرب شہزادی کہاں گئی؟زمیں نگل گئی یا آسماں نے اٹھا لیا،دنیا کی تشویش بڑھنے لگی۔
گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں بھاگنے والی عرب شہزادی لطیفہ کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے، متحدہ عرب امارات کے حکمراں راشد المکتوم کی صاحبزادی اسی سال کے ماہ مارچ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی، شیخہ لطیفہ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے شہزادی کا کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شہزادی سے متعلق آگاہی کے لیے متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرلیا ہے۔
جوبرٹ نامی ایک فرانسیسی امریکی شہری نے اپنے ویڈیو پیغام میں دعوی کیا کہ وہ رواں سال مارچ میں باغی شہزادی کے ہمراہ بھارت کے سیاحتی مقام گوا میں موجود تھے۔ شہزادی اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتی تھیں اور ہم گوا کے سمندر میں ایک کشتی میں سوار تھے کہ بھارتی کوسٹ گارڈ نے ہمیں گھیرے میں لے کر کشتی کو روک لیا جس کے بعد متحدہ عرب امارات کے کچھ اہلکار کشتی میں آئے اور مار پیٹ کر ہمیں دبئی لے گئے جہاں مجھے ایک ماہ رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا تاہم شہزادی کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے۔
لیکن عینی شاہدین کے مطابق وہ جس پرتعیش کشتی میں بھاگ رہی تھیں سکیورٹی اہلکار اسے روک کر واپس دبئی لے آئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے کسی نے انھیں دیکھا یا سنا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کے 104 سالہ سائنس ڈیوڈ گوڈیل رواں ماہ خود کشی کرنے سوئٹزر لینڈ جائیں گے

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شیخہ لطیفہ کے گمشدہ ہونے کے بعد ان کے دوستوں نے حکام پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ان کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جو ان کے مطابق شیخہ نے اس واقعے سے پہلے ریکارڈ کروایا تھا اور کچھ ہونے کی صورت میں اسے منظر عام پر لانے کو کہا تھا،
اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کو صرف اپنی ساکھ کی فکر ہے،اس شہزادی نے 2002 میں بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں جیل میں ڈال دیا گیا جہاں انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سال گزارے تھے۔

شیخہ لطیفہ کی گمشدگی کے معاملے پر ایک انسانی حقوق کا گروپ 'ڈیٹینڈ اِن دبئی' یعنی ’دبئی میں حراست میں‘ آواز اٹھا رہا ہے لیکن یہ گروپ اس لیے متنازع ہے کیوںکہ اس کے دو ممبران کے خلاف دبئی میں جرم ثابت ہو چکے ہیں،اس تنظیم نے پریس کانفرنس میں تمام معاملہ منظر عام پر لانے مطالبہ کبا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کے پیچھے ان کی نیت کیا تھی۔

یہ بھی پڑھیں:خبردار، ہوشیار! اب دوسری شادی کرنے پر خوب پٹائی ہوگی

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک حکومتی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے مطابق ’لطیفہ اب اپنی فیملی کے ساتھ ہیں اور یہ پوری کہانی دبئی کے حکمراں اور شیخہ کے والد کو بدنام کرنے کی قطری سازش کا حصہ ہے،سابق فرانسیسی جاسوس ایروے جوبیر جو خود بھی امارات سے بھاگے تھے آخر شیخہ کی مدد کیوں کر رہے تھے؟ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس کے پیسے ملنے تھے لیکن انھوں نے رقم بتانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے منفی تاثر پڑے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ سب انھوں نے صرف پیسے کے لیے کیا اور ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔
اس دن کشتی سے لے جائے جانے کے بعد شیخہ لطیفہ کی جانب سے نہ کچھ سنا گیا ہے اور نہ ہی انھیں کہیں دیکھا گیا ہے،جب تک شہزادی شیخہ لطیفہ منظر عام پر نہیں آتیں ان کے بارے میں سوال اٹھتے رہیں گے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں