احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کی جی آئی ٹی تشکیل، ملزم کا اقبالی بیان سامنے آگیا


 (24 نیوز) وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بن گئی، قاتلانہ حملے کی ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔ ملزم کا اقبالی بیان سامنے آگیا۔ 

24 نیوز ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملے کی ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کارنر میٹنگ کے منتظم گلفام مسیح اورحملہ آور عابد حسین کےدرمیان فون پرگفتگوہوئی۔ عابد نے گلفام سے وزیرداخلہ کی آمد کا وقت پوچھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کپتان، زرداری دل ملانے لگے، میاں صاحب کی تنہائی واضح ہوگئی

ذرائع کے مطابق پولیس کو احسن اقبال کی آمد کی اطلاع ہی نہیں تھی۔ پولیس کو وزیر داخلہ کے گھر سے نکلنے کے بعد 15 پر اطلاع ملی۔ پولیس نے سہولت کارعظیم اشرف اور گلفام مسیح سمیت 4افراد کوحراست میں لےلیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولئے: انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار ہوجائیں تیار، کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی مزید سخت

محکمہ داخلہ پنجاب نے احسن اقبال پر حملے کی تحقیقات کیلئے جےآئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی فنانس محمد طاہر کو جےآئی ٹی کا سربراہ مقررکیا گیا ہے۔ ایس ایس پی خالد بشیرچیمہ، فیصل گلزاراعوان، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی تفتیشی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

اس سے قبل حملہ آور عابد حسین کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو دس روزہ جسمانی ریمانڈپرپولیس کے حوالےکردیا۔ ملزم کو سخت سیکورٹی میں عدالت لایا اورلےجایاگیا۔

دوسری جانب احسن اقبال پرفائرنگ کرنے والے ملزم کا اقبالی بیان سامنے آگیا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ اسے کسی نے خواب میں کہا کہ احسن اقبال کوگولی ماردو۔