میاں نواز شریف کی چھٹی ختم، جاتی امراء سےکوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے

میاں نواز شریف کی چھٹی ختم، جاتی امراء سےکوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے


لاہور(24نیوز) سابق وزیراعظم نوازشریف کی آزادی کے دن ختم، ضمانت کی مُدت ختم ہونےپرآج واپس کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے۔ میاں نوازشریف کی جیل واپسی کےقافلے کی قیادت مریم نواز نے کی، انہوں نےکارکنوں کوچلوچلوکوٹ لکھپت جیل چلوکی کال بھی دے دی۔   

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف جاتی امراء سے  قافلے کی صورت میں کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے، اس موقع پر کارکنوں کی کثیر تعداد  بھی ہمراہ تھی جو  اپنے محبوب قائد کے حق میں نعرے لگائے۔ میاں نوازشریف گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر گھر سےرخصت ہوئے۔حمزہ شہبازنے گاڑی ڈرائیو کی جبکہ مریم نوازپچھلی سیٹ پربیٹھی تھیں۔ گاڑی پر پھول پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کاقافلہ جاتی امراسے روانہ ہونے سے پہلے جیل پولیس والے انہیں لینے پہنچ گئے لیکن میاں نوازشریف نے روزہ کی افطاری سے پہلے ساتھ جانے سے انکارکردیا۔ جاتی امرامیں کارکنوں کی بڑی تعداد روزہ کی افطاری سے پہلے ہی پہنچ گئی تھی۔ جس میں تیزی سے اضافہ ہوتاگیا۔ روزہ افطارکرنے کے بعد نوازشریف کاجاتی امراء سےکوٹ لکھپت جیل تک کا سفر شروع ہوا۔

میاں نوازشریف کے استقبال کیلئے شنگھائی پل پر خصوصی استقبالیہ کیمپ لگایا گیا۔ پارٹی رہنما کارکنوں کا لہو گرماتے رہے۔کارکنوں کی کثیر تعداد کے باعث فیروزپورروڈ اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک شدید جام رہا۔

ضمانت ختم ہونےپرکوٹ لکھپت جیل پولیس میاں نوازشریف کوگرفتارکرنےجاتی امراء پہنچی اورباہر کھڑی انتظارکرتی رہی۔ نوازشریف نے انھیں گرفتاری نہیں دی اور افطار کے بعد خود جیل پہنچنے کی خواہش ظاہرکی۔قافلے کے راستے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی ساتھ ساتھ ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں مریم نواز صاحبہ میاں نواز شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ہوں گی جبکہ ن لیگ کے کارکن اپنے قائد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جلوسوں کی صورت موجود ہوں گے۔ دوسری طرف مریم نواز ٹوئٹ کرکے کارکنوں سے کہا ہے  چلو چلو کوٹ لکھپت جیل چلو ن لیگ جیالوں کی نہیں متوالوں کی جماعت ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ چلوچلو کی کال پر متوالے کان دھرتے بھی ہیں یا نہیں۔ 

اگر دھرتے ہیں تو ان کی تعداد کیا ہوگی۔ مخالفین کی نظر متوالوں کی تعداد پر اس لئے بھی ہوگی کہ لاہور ن لیگ کا گڑھ ہے ۔  اگر ن لیگ کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو چلوچلو کی کال پر باہر نہ نکال سکی  تومخالفین کہیں گے کہ اب ن لیگ کے چل چلاو کا وقت آگیا ہے۔ اس لیئے ن لیگ کیلئے چلو چلو کوٹ لکھپت چلو کی کال ناک کامسئلہ بھی ہے اور آن کا بھی ۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔