والدین سے ملاقات کیلئے 12سال لگ گئے

والدین سے ملاقات کیلئے 12سال لگ گئے


کھٹمنڈو(24نیوز)نیپال میں والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے انہیں دور دراز علاقوں میں تعلیم کیلئے بھیج دیتے ہیں،ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ناقابل رسائی گائوں شامل ہیں،یہاں کے باشندوں کو تعلیم اور دیگر کاموں کیلئے لمبا سفر کرکے جانا پڑتا ہے،غریب ہوں تو کئی سال لگ جاتے ہیں۔

 12 سال بعد والدین سے ملنے کے لیے ایک ایسے ہی طالب علم جیون مہاترا نے لمبا سفر کیا۔ جیون کہتے ہیں کہ مجھے صرف والدین کی مسکراہٹ یاد ہے اور اسی یاد میں میں نے 12سال سکول میں گزار دئیے،ان کے گائوں تک پہنچنے کیلئے دو پروازوں کے علاوہ ٗپانچ دن پر مشتمل پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

جیون کہتے ہیں کہ جب میں سنو لینڈ سکول گیا تو میری عمر 4سال کے لگ بھگ تھی،میرا اپنے خاندان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا،کیونکہ گائوں میں رابطے کیلئے کوئی مواصلاتی نظام نہیں ہے،میرا خیال تھا کہ میرا گائوں کھٹمنڈو شہر جیسا ہوگا لیکن میرا خیال غلط نکلا،یہ تو بہت گندا علاقہ ہے،یہاں صفائی کا کوئی نظام نہیں ،یہاں پر کوئی ترقی نہیں ہوئی،لوگ صفائی ،ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے۔میری والدہ سے ویسی ملاقات نہیں ہوئی جو سوچی تھی،میں شش وپنج میں تھا کہ یہ میری والدہ ہیں بھی یا نہیں۔وہ کافی بوڑھی ہوگئیں تھیں اور مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔

یاد رہے سنو لینڈ سکول کھٹمنڈو شہر میں واقع ہے،یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جہاں لوگ اپنے بچوں کو دور دراز علاقوں سے تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer