"اسٹیٹ بینک سے تھر کے رہائشیوں کے زرعی قرضوں کی تفصیلات طلب"


24نیوز : تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ سیشن جج تھر پارکر کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا حکم دیدیا۔

  سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بنک سے رہائشیوں کے واجب الادا زرعی قرضوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کیس کی سماعت کی۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کمیٹی رپورٹ پیش کی ۔ بتایا گیا کہ غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے قلیل المدتی اور طویل المدتی پروگرام شروع کیے ہیں ۔ ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے کا اضافی پیکج    ڈاکٹرز  کو دیا جا رہا ہے۔

عدالتی معاون فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق سب اچھا ہے، کاغذوں پر سارا کام پورا کر دیا گیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسارکیا کہ 2016 میں سندھ حکومت کی مرضی سے کمیشن بنایا، اس کی سفارشات کدھر ہیں؟ کس قانون کے تحت ڈاکٹرز کو اتنے بھاری معاوضے دیئے جا رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے تفصیلی جواب داخل کرنے کیلئے تین دن کی مہلت مانگ لی۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھر پارکر کی سربراہی میں کمیشن کی تشکیل کا حکم دے دیا۔ کمیشن پندرہ دنوں میں جائزہ لیکر تھر میں خوراک، پانی سمیت دیگرسہولیات کی فراہمی کی رپورٹ پیش کرے گا۔

عدالت نے اسٹیٹ بنک سے تھر کے رہائشیوں کے واجب الادا زرعی قرضوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی، سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito