”یہاں بیٹھنا ہے تو بندہ بن کر بیٹھیں“

”یہاں بیٹھنا ہے تو بندہ بن کر بیٹھیں“


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف تینوں ریفرنسز کو ایک سال مکمل ہوگئے،احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیا سے جر ح کی۔
احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی،سابق وزیراعظم نوازشریف کو سماعت کے موقع پر سخت سکیورٹی میں عدالت پیش کیاگیا۔
شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا پر جرع کرتے ہوئے کہاکہ تفتیش کے دوران جے آئی ٹی کے علم میں آیا کہ ہل میٹل کا پورا نام کیا ہے، واجد ضیا نے جواب میں کہا کہ جی علم میں آ یا تھا جو دستاویزات دیے گئے اس میں آفس ایڈریس اور پی او باکس نمبر دیا ہوا تھا۔


انھوں نے کہاکہ ماڈرن انڈسٹری فار میٹل اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے کوئی ایم ایل اے سعودی عرب کو نہیں بھیجا،جس وقت سعودی عرب کو خط لکھا گیا اس وقت کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا،ایم ایل اے صرف ایچ ایم ای کے حوالے سے سعودی عرب کو لکھا گیا، دستاویز کے مطابق کمپنی سٹیل کے کاروبار سے متعلق ہے، واجد ضیا نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو ایم ایل اے لکھنے سے ایک دن قبل حسین نواز شامل تفتیش ہوئے۔
دوران سماعت خواجہ حارث نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ آپ عربی سمجھتے ہیں جواب میں واجد ضیا کا کہناتھا کہ کچھ وقت سعودی عرب میں گزارا اس لیے تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں ،دوران تحقیقات یہ بات اہم تھی کے کمپنی کسی فرد واحد کی ملکیت ہے یا شراکت داری پر،تفتیش کے دوارن مخصوص سوال نہیں پوچھا تاہم جو باتیں پوچھی ان میں سے اس سوال کے متعلق نکات شامل تھے۔


سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں گفتگو پر جج ارشد ملک نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما طارق فضل چوہدری اور پرویز ملک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پہلے بھی کہا تھاکہ کہ یہاں بیٹھنا ہیں تو بندے بن کر بیٹھیں،جج نے ریمارکس دیے کہ میاں صاحب سے بات کریں تو سمجھ آتی ہے عدالت میں بیٹھ کر آپس میں گفتگو کا کیا جواز بنتا ہے،وکیل صفائی نے عدالت کا یقینی دھانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا،احتساب عدالت نے مزید کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔