6ماہ کی ڈیڈلائن، پشاور بی آر ٹی منصوبہ سال بعد بھی مکمل نہ ہوا

6ماہ کی ڈیڈلائن، پشاور بی آر ٹی منصوبہ سال بعد بھی مکمل نہ ہوا


پشاور (24نیوز) کرپشن اوربدانتظامی کےالزامات کے بعد پشاورکامیٹرو منصوبہ تحریک انصاف کیلئے دردسربن گیا،منصوبے کے باعث خیبرپختونخوا کے سابق اورموجودہ وزیراعلیٰ آمنے سامنے آگئے۔

6 ماہ کی ڈیڈ لائن والا پشاورکا بی آرٹی منصوبہ ایک سال بعد بھی مکمل تو نہ ہوا لیکن تحریک انصاف کیلئے مشکل ضرور بن گیا،وزیراعلیٰ محمود خان حکومت نے اپنی ہی سابق حکومت پرالزام عائد کیاکہ بی آر ٹی کیلئے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی،بار بار تبدیلیوں سے منصوبے کی لاگت بڑھی،کنٹریکٹرکومنصوبہ 6 ماہ میں مکمل کرنےکیلئے 25 فیصد زائد ادائیگی کی گئی،نکاسی آب کا انتظام ہی نہیں، باتھ رومز سڑک کنارے بنادیئے گئے،عوامی مشکلات بڑھانے والوں کوانصاف کے کٹہرے میں لاناچاہیے۔

سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوبائی حکومت کی رپورٹ مسترد کردی،نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ الزامات جھوٹے ہیں،کرپشن ثابت کریں،سزابھگتنےکیلئےتیارہوں۔

بی آرٹی منصوبے پر کام کرنے والے مزدور بھی سڑکوں پر آگئے ہیں،حیات آباد میں احتجاج کرتے مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسی کو3 ماہ توکسی کو6 ماہ سےتنخواہ نہیں ملی،مظاہرین نےمطالبہ کیاکہ حکومت فوری واجبات ادا کرے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔