خبر دار ! آپ کے پیغامات محفوظ نہیں،وٹس ایپ کا بڑا نقص سامنے آگیا

خبر دار ! آپ کے پیغامات محفوظ نہیں،وٹس ایپ کا بڑا نقص سامنے آگیا


لاہور(24 نیوز)آپ کے بھیجے گئے پیغامات تبدیل کرکے آگے بھیجے جاسکتے ہیں آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا،جی اب ایسا ہورہا ہے جس کا آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا، سائبر سکیورٹی سے وابستہ دو کمپنیوں نے اس حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

چیک پوائنٹ ‘ نامی سائبر سیکیورٹی فرم کی ایک ٹیم نے حال ہی میں اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح ان کا تیار کیا گیا ٹول واٹس ایپ کے اندر 'کوٹ' کیے گئے میسج کو بالکل تبدیل کر کے یوں ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ کسی شخص نے وہ کہا جو انھوں نے حقیقت میں نہیں کہا۔

محقق اودید ونونو نے کے مطابق  اس ٹول کی مدد سے 'بدنیت افراد' اس پلیٹ فارم پر ہونے والی گفتگو پر مکمل طور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔لاس ویگاس میں ہونے والی ایک سائبر سیکیورٹی کانفرنس 'بلیک ہیٹ' میں اس کمپنی نے ان خامیوں کا استعمال کر سکنے والے سافٹ ویئر کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

یہ ٹول چیک پوائنٹ ہی کی ٹیم کے گذشتہ سال شائع کیے گئے ایک تحقیقی مقالے پر مبنی تھا۔محققین نے بتایا کہ یہ خامی جھوٹی خبریں بنانے اور دھوکہ دہی میں استعمال ہوسکتی ہے۔جب آپ کسی کے پیغام کو کوٹ کرتے ہوئے ریپلائے کرتے ہیں، تو اس ٹول کے ذریعے آپ اس پیغام کا ایک ایک حرف تبدیل کر سکتے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوگا کہ اس شخص کا پیغام درحقیقت کچھ اور تھا۔

اس کے علاوہ اس ٹول کے ذریعے پیغام بھیجنے والے شخص کی شناخت بھی تبدیل کی جاسکتی ہے جس سے کسی پیغام کو کسی دوسرے شخص سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔محققین نے ایک تیسری خامی کا پتا لگایا تھا جس کے ذریعے کسی شخص کو دھوکہ دیا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کو پرائیوٹ میسج کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت ان کا پیغام کسی گروپ کو جا رہا ہوتا۔

اس تیسری خامی کا فیس بک نے سدِ باب کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ واٹس ایپ بھی فیس بک کی ملکیت ہے۔مگر ونونو کے مطابق فیس بک کا کہنا ہے کہ 'تکنیکی محدودیت' کی وجہ سے دیگر خامیاں ٹھیک نہیں کی جا سکتیں۔ فیس بک نے محققین کو بتایا کہ واٹس ایپ پیغامات کو خفیہ رکھنے کے لیے جو ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، اس کی وجہ سے کمپنی کے لیے کسی پیغام کو مانیٹر کرنا اور کسی کے بھیجے گئے پیغام میں تبدیلی کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

محققین کو بتایا گیا کہ جن خامیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان کے حل اس ایپ کی استعمال کو مشکل بنا سکتے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے نے جب محققین سے پوچھا کہ انھوں نے ایسا ٹول کیوں جاری کیا جو اس خامی کا غلط استعمال آسان بنا سکتا ہے، تو انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ایسا کرنے سے اس مسئلے پر بات ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے جھوٹی خبروں کا پھیلنا دنیا بھر میں، بالخصوص انڈیا اور برازیل جیسے ممالک میں ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے جہاں جھوٹی معلومات کی وجہ سے نہ صرف تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، بلکہ اموات تک ہوئی ہیں۔شدید تنقید کے بعد واٹس ایپ نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں جس کے ذریعے کوئی میسج کتنی مرتبہ فارورڈ کیا جا سکتا ہے، اس پر حد لگا دی گئی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer