کشمیراورقانون قدرت

تحریر:مناظرعلی

کشمیراورقانون قدرت


 اللہ تعالیٰ نے انسان کوباربارغوروفکرکرنے کاحکم دیاہے تاکہ وہ معاملات کوسمجھ سکےمگرانسانی المیہ یہ ہے کہ اپنے خالق کی بات پربھی توجہ نہیں دیتادیگرمعاملات پرغوروفکرکیاکرے گا؟ قدرت کی ایک ایک چیزپرغوروفکرکریں توبات کوسمجھنامشکل نہیں ہوتاجیسا کہ مال ودولت کے امباررکھنے والاکوئی متکبرشخص اسی گمان میں رہتاہے کہ وہ کبھی غریب نہیں ہوگا،یہی وجہ ہے کہ دولت کے نشے میں انسانیت کے تقاضے بھی پس پشت ڈال دیتاہے اورپھرگمراہی کی ایسی دنیامیں چلاجاتاہے جہاں سے واپسی تواسے نصیب نہیں ہوتی البتہ موت اسے اس جہاں سے ہی ختم کردیتی ہے۔تاریخ کے اوراق اٹھاکردیکھ لیں دنیامیں بڑے بڑے ظالم حکمران آئے جنہوں نے اپنی طاقت کے نشے میں یہی گمان کیابلکہ یقین کی حدتک گمان کیاکہ ان کے اقتدارکاسورج کبھی غروب نہیں ہوگامگرتختہ الٹ گیایاپھروہ موت کے منہ میں چلے گئے لہذاہرابتداکے بعدانتہاہوتی ہے یہ مسلمہ حقیقت ہے جومانے اس کے لیے بھی اورجونہ مانے اس کے لیے بھی۔۔اصول سب کے لیے برابر ہوتے ہیں اورجب قانون قدرت کی بات ہوتوپھرکیسے ایک منٹ کی بھی تاخیرہوسکتی ہے؟

ہم سورج کوصبح کے وقت طلوع ہوتادیکھتے ہیں جواپنی روشنی سے اندھیروں کوبھگادیتاہے مگرایک وقت مقررہ کے بعدآب وتاب سے چمکنے والاسورج بھی غروب ہوجاتاہے اورپھررات کے اندھیرے اورسناٹے کی دنیا دن کی روشنی اور رونق کوخاموش کردیتی ہے۔ قدرت کی ہرچیزپرغورکریں توایک سلسلہ نظرآئے گا جوشروع ہوتاہے اورپھرختم ہوجاتاہے۔انسانی زندگی پرغورکریں توانسان کی پیدائش،بچپن،لڑکپن،جوانی اوربڑھاپے کے بعدبالآخرجسم وجان کاتعلق ٹوٹ جاتاہے اورانسان جس مٹی سے بناہے اسی مٹی میں مل جاتاہے اورپھرجب قدرت چاہے گی تویہ مٹی دوبارہ انسانی روپ اختیارکرلے گی۔اس چیز کی وضاحت خدا نے خود ہی کردی ہے کہ وہ ہرچیز پرقادر ہے۔انسانی زندگی پرفنالازم ہے مگرپھربھی گندے پانی سے بنایہ انسان تکبرکے اس مقام پرجاپہنچتاہے کہ اسے یہ خیال ہی نہیں آتاکہ وہ دوسروں پرظلم کرتاہے آخرمیں ایک پل ہی اسے موت کی آغوش میں لے کرچلاجائے گا۔

تاریخ انسانی کودیکھیں یاابتدائے اسلام پرنظردوڑائیں،تبدیلی قدرتی عمل ہے مگربعض دفعہ محسوس نہیں ہوتاکیوں کہ انسانی سوچ کے مطابق اس عمل میں بعض دفعہ تاخیراتنی ہوجاتی ہے کہ کئی نسلیں مل کر یہ دورانیہ دیکھتی ہیں۔ممکن ہے اس میں بھی کوئی قدرت کی حکمت عملی ہو جسے انسانی دماغ سمجھ نہیں سکتا۔حضورنبی کریمﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے دنیا کاحال پڑھ لیں جب ہرطرف جہالت کادور دورہ تھا،بت پرستی عام تھی اورانسانیت برائیوں کی دلدل میں بری طرح گھرچکی تھی،پھراللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے نبی آخری الزمانﷺ کاظہورفرمایاجنہوں نے رفتہ رفتہ انسانیت کوسیدھے راستے پرچلانے کی کوششیں کیں اوربلآخردشمن بھی دوست بنتے گئے ۔ پھرایک وقت آیا کہ جب آپ کے جانثاروں کی اطاعت کایہ عالم تھا کہ جان ومال اوراولاد سے بڑھ کراللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کاحکم دل وجان سے ماننے لگے لہذا تبدیلی آئی مگرایک وقت کے بعد۔

تقسیم ہندسے پہلے قائداعظمؒ اورہندوستان کے مسلمانوں کی الگ وطن کے حصول کے لیے جدوجہدکامطالعہ کریں توآپ کومعلوم ہوگاکہ یہ آزادوطن ایک دو روز،مہینوں یاصرف دوچارسالوں کی محنت کانتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل کوششیں کارفرماہیں،اس کے پیچھے بے شمارقربانیوں کی کہانیاں ہیں اورپھرقیام پاکستان کے موقع پرہجرت کی کہانی ایک دلخراش ہے جسے پڑھ کرپتھردل انسان بھی آبدیدہ ہوجاتاہے،یہاں مجھے خانقاہ ڈوگراں کے سردارعبدالجبارڈوگرمرحوم یادآگئے جو قیام پاکستان کے وقت انڈیاسے ہجرت کرکے پاکستان آئے،وہ اپنے اس سفر کے دوران آنکھوں دیکھے حالات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے تھے اوربات کرتے کرتے ان پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی تھی کہ وہ خاموش ہوجاتے مگران کے آنسو اُن کے غم کو بیان کرتے رہتے تھے۔۔۔جب مسلمانوں نے سوچ لیاکہ ہندواورمسلمانوں کاایک ساتھ رہناناممکن ہے اورانہیں ایسی سرزمین کی ضرورت ہے جہاں انہیں ہرقسم کی آزادی ہوتوپھرجان ومال کی پرواہ کیے بغیراس کے لیے کوشش کی جس کانتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے،ہندوستان کے مسلمانوں کوآزادی نصیب ہوئی مگرایک طویل تحریک کے بعد۔

اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیرکو،تویہاں بھی دیگرتحریکوں کی طرح کے حالات نظرآتے ہیں،کشمیریوں نے اپنی آزادی کے لیے بہت کچھ قربان کرلیاہے۔کتنی گودیں اجڑگئیں،کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کے لاشوں پربین کرکرکے اپنے آنسوخشک کربیٹھیں،کتنے ہی لاشوں پرماتم کی ایک طویل فہرست ہے،کتنے ہی بزرگ کشمیریوں نے اپنے جوان بیٹوں کواپنے ہاتھوں سے دفنادیااورکتنے ہی معصوم کشمیری بھارتی درندوں کے ظلم کاشکار ہوئے،کشمیرکے ہرگھرمیں غم کی ایک الگ داستان ہے ۔جس داستاں کاذکرکریں تو کلیجہ منہ کوآتاہے،یہ حال ہرمسلمان کاہے کیوں کہ حضوراکرمﷺ کافرمان ہے کہ "مومن مومن کابھائی ہے"جب ایک بھائی کوتکلیف ہوگی تواس سے فرق نہیں پڑتاکہ وہ فلسطین میں ہویاکشمیرمیں ،تکلیف برابر ہوتی ہے۔۔ظلم کاجوسورج کشمیر کی وادی میں طلوع ہواتھا،،قانون قدرت کے مطابق اگرغورکریں تواب غروب ہونے والا ہے کیوں کہ ہرعروج کوزوال ہے اورہرظلم کوایک دن ختم ہوناہے۔جس طرح ہرابتدا کے بعدانتہالازم ہے اسی طرح کشمیری بھائیوں کی جدوجہدآزادی بھی اب رنگ لانے والی ہے،ممکن ہے یہ آخری مرحلہ پچھلے ادوارسے زیادہ دکھ بھرا ہومگراصول کے مطابق اب غم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ضرورت اس چیز ہے کہ دنیابھرکے مسلمان اس مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے جوکچھ کرسکتے ہیں وہ کریں،اورکچھ زیادہ نہیں توانہیں اپنی خاص دعاؤں میں ہی یادرکھیں۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔