مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پرانی ہے


لاہور (24 نیوز ): مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے، اس کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پرانی ہے، 2 بار یہ جنگ وجدل سے تباہ ہوا اور 23 بار اس کا محاصرہ کیا گیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بیت المقدس کو 52 بار بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کیلئے مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے ، یہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے جسے مسلم دنیا میں بیت المقدس کہا جاتا ہے۔

 عیسائیوں کا مقدس چرچ، چرچ آف ہولی سپیلچر حضرت عیسیٰؑ کا جائے پیدائش بیت اللحم بھی یہیں واقع ہے۔ یہودی آبادی کے علاقے میں مغربی دیوار ہے جو یہودیوں کے مقدس مقام وال آف دا ماؤنٹ کا باقی ماندہ حصہ ہے یہودیوں کیلئے مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد یہودیوں نے بیت المقدس کے مغربی حصے پر قبضہ کر لیا تھا، 1966 کی جنگ میں اسرائیل نے شہر کے مشرقی حصے پر بھی غاصبانہ تسلط جما لیا تھا، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھی غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کیخلاف  دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، کئی ممالک نے امریکہ کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔