سپریم کورٹ نے اورنج لائن منصوبہ پر رضا مندی کن شرائط پر ظاہر کر دی؟

سپریم کورٹ نے اورنج لائن منصوبہ پر رضا مندی کن شرائط پر ظاہر کر دی؟


 اسلام آباد (24 نیوز): سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی سفارشات کی روشنی میں اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کی اجازت دی، سپریم کورٹ نے منصوبے کی تکمیل کے لیے 31 شرائط بھی عائد کی ہیں۔

  سپریم کورٹ نے میٹرو اورنج لائن ٹرین کے فیصلے میں منصوبے کے این او سی کو تسلیم کرتے ہوئے 31 شرائط بھی رکھی ہیں جن میں پنجاب حکومت کو قومی ورثے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تھرتھراہٹ کی جانچ کے لیے جدید مانٹیرنگ کے نظام مرتب کیا جائے، تھرتھراہٹ اگر طے کردہ معیار سے زیادہ ہوئی تو کام کو روک دیا جائے گا۔ آزاد اور تجربہ کار انجنیئرپراجیکٹ کی ماہانہ مانیٹرنگ رپورٹ متعلقہ کمیٹی کو جمع کروائے گا۔

 شرائط میں کہا گیا ہے کہ ارتعاش کے جائزے کے لے دو ہفتے کے لیے ٹرین تجرباتی بنیادوں پر چلائی جائے جبکہ قومی ورثے کے پاس سے گزرتے ہوئے ٹرین کی سپیڈ کم ہونی چاہیے، ارتعاش کے جائزے کے لیے آلات مستقل بنیادوں پر لگائے جائیں گے۔ کسی بھی نقصان کی صورت میں ڈی جی آرکیالوجی کو تحریری طور پر آگاہ کرنا ہوگا۔ شکایات کے لیے ہاٹ لائن کے نمبر پبلک مقامات پر آویزاں کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

 ٹرین ٹریک تعمیرات کے دوران پیدا ہونے والی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے نظام مرتب کرنے کے ساتھ شالیمار گارڈن کے ہائیڈرالک ٹینک کو بحال کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ فیصلے میں شالیمار گارڈن کے اردگرد کے علاقے کو بفرزون قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

 چوبرجی کے اطراف کو گرین بیلٹ میں تبدیل کرنے اور زیب النسا مقبرہ کی تزئین و آرائش کرنے کا بھی کہا گیا ہے سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت مستقبل کے منصوبے شروع کرنے سے پہلے منصوبے کی تشہیری مہم چلائے گی۔

مزید دیکھئے اس ویڈیو میں: