اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی کا 93 واں جنم دن

 اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی کا 93 واں جنم دن


24 نیوز :  الفاظ کے ذریعے عام آدمی کے احساس کی ترجمانی کرنے والے اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی کی آج ترانوے واں جنم دن منایا جا رہا ہے، ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری میں جدید رنگ اور حسنِ ادا کو سراہتے ہیں۔

آٹھ دسمبر 1925 کو بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہونے والے ناصر کاظمی نے عام فہم انداز فکر اور اسلوب کے باعث عوامی شاعر کا مرتبہ پایا۔ میر جدید کہلانے والےعہد ساز شاعر ناصر کاظمی کی شاعری لطیف انسانی جذبات کی بہترین ترجمان ہے۔ ناصر کاظمی نے 47 سالہ زندگی چائے خانوں اور رات کی کہانیاں سناتی ویران سڑکوں پر رتجگے کرتے ہوئے گزاری، اُن کی بہترین نظمیں اور غزلیں انہیں رتجگوں کا نچوڑ ہیں۔

ناصر نے شاعری میں اپنی لفظیات اور حسیات کے پیمانے رومانوی رکھے اس کے باوجود اُن کا کلام عصرِ حاضر کے مسائل سے جڑا رہا، چھوٹی بحر کی خوبصورت پیرائے میں لکھی گئی غزلیں اور منفرد استعارے اُن کی شاعری کو دیگر ہم عصر شعرا کے اُسلوبِ کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔

ناصر کاظمی کا پہلا مجموعہ کلام ’برگِ نے‘ سن 1954 میں شائع ہوا۔ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ’پہلی بارش‘، ’نشاطِ خواب‘، ’دیوان‘ اور ’سُر کی چھایا‘ شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ’خشک چشمے کے کنارے‘ بھی شائقینِ اردو نثر سے داد وصول کر چکا ہے۔

شازیہ بشیر

Content Writer