سانحہ ماڈل ٹاؤن ،نئی جے آئی ٹی کی تشکیل سےمتعلق نوٹیفکیشن کامعاملہ

سانحہ ماڈل ٹاؤن ،نئی جے آئی ٹی کی تشکیل سےمتعلق نوٹیفکیشن کامعاملہ


لاہور(24نیوز) پاکستان عوامی تحریک نےنئی جے آئی ٹی کی تشکیل سےمتعلق نوٹیفکیشن کےاجرااورشہبازشریف سمیت دیگر کےسانحہ ماڈل ٹاؤن کےحوالےسےدئیے گئےبیان حلفی کےحصول کے لیےلاہور ہائیکورٹ سےرجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست پاکستان عوامی تحریک کے جواد حامد نےاظہر صدیق کی وساطت سےدائر کی، درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگرکوفریق بنایاگیاہے، درخواستگزار کی جانب سےموقف اختیارکیاگیا ہے کہ پنجاب حکومت نےسپریم کورٹ میں نئی جےآئی ٹی کی تشکیل کے لیےرضامندی ظاہر کی تھی،  سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث شہباز شریف اوررانا ثناءاللہ سمیت دیگر کےسابقہ جےآئی ٹی کودئیے گئےبیان حلفی ودیگرکارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کی جارہیں ۔

درخواستگزار کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کی کارکن کی بیٹی بسمہ کی درخواست پر سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کی تھی جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کی یقین دہانی کروائی تھی،  درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے یقین دہانی تو کروادی لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات بھی تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پنجاب حکومت کو نئی جےآئی ٹی کی تشکیل کانوٹیفکیشن جاری کرنےاورشہباز شریف سمیت دیگر کےسابقہ جےآئی ٹی کودیےگئےبیان حلفی سمیت دیگر کارروائی کی تفصیلات فراہم کرنےکاحکم دے۔

واضح رہے کہ پانچ دسمبر کو سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے دلائل سننے کے بعد  پنجاب حکومت کو نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔