سینیٹ الیکشن:،پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم


کراچی(24نیوز) سینیٹ الیکشن کا میدان 03 مارچ کو سجنے والا ہے،اس بار بھی سندھ میں پیپلز پارٹی ہی میدان مارتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے،ایم کیو ایم کے حصے میں مشکل سے دو سیٹیں ہی آسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں سینیٹ کی کل 12 نشستوں کے لئے ووٹنگ 3 مارچ کو ہونے جارہی ہے،سندھ میں سینیٹ کی کل 12 نشستوں میں سے 7 جنرل نشستیں ہیں، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو ۔ دو اور ایک نشست اقلیتوں کے لئے مختص ہے، جبکہ اسمبلی کے کل 168 ارکان میں سے دو میر ہزار خان بجارانی اور احمد علی پتافی انتقال کے بعد 166 ارکان ہی ووٹ کرسکیں گے۔

سینیٹ کی کی کل 7 جنرل نشستوں پر ووٹ کے لئے فی نشست 24 ارکان اسمبلی کے ووٹ درکار ہونگے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو مخصوص نشستوں پر ہر ایک نشست کے لئے 83 ووٹ درکار ہونگے، جبکہ ایک نشست اقلیتوں کے لئے محدود ہے۔

اس حساب سے پیپلز پارٹی 4 جنرل سیٹوں، ٹیکنوکریٹس اور عورتوں کی ایک ایک مخصوص نشست پر باآسانی کامیابی حاسل کرلے گی، جبکہ اقلیتوں کی مخصوص نشست تو پیپلز پارٹی کے ہی حصے میں آچکی ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اس کے کل 50 ارکان میں سے 13 ارکان پارٹی سے منحرف ہوچکے ہیں جن میں سے 7 پی ایس پی، ایک پی پی جبکہ ایک رکن ارم عظیم فاروقی نے سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔

سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کے اگر مسلم لیگ فنکشنل کے 9 اور مسلم لیگ 6 ارکان ایم کیو ایم امیدواروں کی حمایت کریں تو ہی ایم کیو ایم سینیٹ الیکشن میں دوسری جنرل سیٹ حاصل کرسکتی ہے۔

اس وقت سندھ اسمبلی میں اگر پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو سینیٹ الیکشن میں مقابلہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں ہی ہے، اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس 94 ایم کیو ایم 5، فنکشنل لیگ 9، مسلم لیگ ن 7، پی ٹی آئی 4، نیشنل پیپلز پارٹی ایک امیدوار کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہے جبکہ ایک آزاد رکن بھی اسمبلی کا حصہ ہے۔

ایم کیو ایم رکن عارف مسیح اور ن لیگ کے اسماعیل راہو کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد پیپلز پارٹی کی مجموعی ارکان کی تعداد 96 ہوچکی ہے۔