عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت کی توثیق کر دی


اسلام آباد(24نیوز)اسلام آباد دھرنے کے دوران ایس ایس پی پر تشدد، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی، وکلا نے دلائل مکمل کر لئے، عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت کی توثیق کر دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گری عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری، اسد عمر، شفقت محمود اور عارف علوی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے۔ گرفتار ملزموں نے انکشاف کیا کہ شیریں مزاری بھی حملے میں ملوث تھیں، پولیس پراسیکیوٹر نے کہا کہ دو ہزار چودہ کے دھرنوں میں قتل ہونے والے افراد کی ذمہ داری بھی پی ٹی آئی قیادت پر آتی ہے۔

جب پولیس پراسیکیوٹر نے شیریں مزاری کی گرفتاری کیلئے کہا تو شیری مزاری خاصی پریشان دکھائی دیں،مسلسل توبہ توبہ کرتی رہیں۔ چودھری شفقات نے کہا کہ ملزموں سے تفتیش کیلئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا جائے۔

چودھری شفقات کا کہنا تھا کہ واقعے میں تین افراد جاں بحق، 26 زخمی ہوئے، لہذا ملزموں کی ضمانت منسوخ کی جائے، عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانت کی توثیق کر دی، شیری مزاری کو بے قصور قرار دے دیا۔