ڈار ریفرنس کیس،جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا


اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی، رکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان رکارڈ نہ ہوسکا، عدالت نے بارہ فروری کو واجد ضیا کو دوبارہ طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت میں ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت نے واجد ضیا سے استفسار کیا کہ کیاآپ کے پاس کوئی اصل رکارڈہے؟ اس پر واجد ضیا نے بتایا کہ اصل رکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرایا تھا، جج محمد بشیر نے کہا کہ رکارڈ کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا تھا، یاد دہانی کرا دیتے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسحاق ڈار سے متعلق رکارڈ والیم ایک اور 9 اے میں ہے، تمام والیم منگوائیں یا صرف اسحاق ڈار سے متعلق، فیصلہ عدالت کرے، واجد ضیا نے کہا کہ باہمی قانونی معاونت سے متعلق کچھ رکارڈ سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرایا، بیرون ممالک سے قانونی خط وکتابت کا رکارڈ والیم 10 میں ہے، والیم 10 عدالت میں جمع نہیں کرایا۔
اصل رکارڈنہ ہونے کی وجہ سے واجدضیا کا بیان قلمبند نہ ہوسکا، عدالت نے واجد ضیا کو بیان رکارڈ کرانے کیلئے 12 فروری کو دوبارہ طلب کرلیا،عدالت نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔