ننھی بچی کےقتل کامعاملہ، کتنے رشتے داروں کے بیانات قلمبند کئے گئے؟

ننھی بچی کےقتل کامعاملہ، کتنے رشتے داروں کے بیانات قلمبند کئے گئے؟


کراچی(24نیوز) کراچی کے علاقہ کلفٹن میں سمندر میں ڈبو کر بچی کا قتل کرنےوالی ماں ملزمہ شکیلہ کے 12 رشتے داروں کے بیانات قلمبندکرلیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق ماں کے ہاتھوں سمندر میں ڈبو کر بچی کا قتل کرنےوالی ماں ملزمہ شکیلہ کے 12 رشتے داروں کے بیانات قلمبندکرلیے گئے ہیں ،  ملزمہ شکیلہ کے والد، والدہ، 3 بہنیں اور 2 بھائی تھانہ ساحل کے شعبہ انویسٹی گیشن میں پیش ہوئے ، پولیس نے ملزمہ شکیلہ کے شوہر محمد رشید شاہ کو بھی بیان کے لئے طلب کیا،ملزمہ شکیلہ کی فیملی کاکہناتھاکہ شکیلہ کو سال 2015 میں بھی اس کے شوہر نے زبردستی گھر بھیج دیا تھا۔

اہل خانہ نے پولیس کوبتایاکہ کہ شکیلہ کو والدین کے گھر بھیج کر شوہر نے سامان اٹھا کر لے جانے کا پیغام بھیجا ، ملزمہ شکیلہ کی والدہ کاکہناتھاکہ دھمکی آمیز رویے کے بعد راشد شاہ اپنے گاؤں چلا گیا، کراچی واپس آکر پھر بیوی سے تصفحہ کرلیا،شوہر کے ذہنی ٹارچر اورتشدد کی وجہ سے شکیلہ کا پہلا بچہ ضائع ہوچکاتھا، اس کےبعدمقتولہ بیٹی پیدا ہوئی۔ 

پولیس کے مطابق بچی کو ڈبو کرقتل کرنے والی ملزمہ شکیلہ ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہےجبکہ گرفتار ملزمہ کے شوہر، دیور ساس، سسر اور نند کا بیان بھی پولیس نے قلمبند کر لیاہے۔

واضح رہے کہ شکیلہ کی2012  میں شادی میں ہوئی ، وہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی ادویات کا استعمال کر رہی تھی ، شکیلہ کے شوہر نے الگ فلیٹ لے کر بھی دیا تھا ۔گھریلو جھگڑے کے بعد دو سالہ انعم اپنے والد کے ساتھ رہتی تھی۔

وقوعہ والے روز صبح سویرے شکیلہ  اپنے والدین کے گھر سے شوہر کے گھر چلی گئی ،ننھی جان کو کس طرح شوہر کے گھر سے اُٹھایااس کےبارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں۔ 

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER