"کلبھوشن سےمتعلق 19فروری کو لیگل ٹیم اپنا کیس پیش کرے گی"



مانچسٹر (24نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی خارجہ پالیسی پر نہیں چلے گا ، مسئلہ کشمیر پر بیک ڈور ڈپلومیسی کی ضرورت نہیں سامنے بیٹھ کر بات کرنی چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق مانچسٹر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ  آج پی ٹی آئی جس مقام پر ہے اس میں اورسیز پاکستانیوں کا اہم کردار ہے ، تحریک انصاف نے اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے  کے لئے علم بلند کیا، دیگر جماعتوں نے اورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق میں جتنے رخنے ڈال سکتے تھے انھوں نے ڈالے ، اورسیز پاکستانیوں کے لیے آمد ورفت میں آسانی اور بہتری پیدا کررہے ہیں، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ اورسیز پاکستانیوں کے لیے اچھی سرمایہ کاری ہے ، ہم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کررہے ہیں ۔

 شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ  کشمیر میں نوجوان نسل بھارت کی پالیسی سے نالاں ہے ، عالمی مبصرین اور میڈیا کشمیر آناچاہتا ہے ہم تو تیار ہیں کیا بھارت تیار ہے؟ کشمیریوں کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، مقبوضہ کشمیرسے متعلق آج بھارت میں بھی آواز اٹھ رہی ہے ، پاکستان اور بھارت کے ساتھ بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں ، گزشتہ حکومتوں کو کشمیر پر معذرت خواہانہ رویہ تھا ، ماضی اور آج کی حکومت کی کشمیر پر پالیسی میں واضح فرق ہے۔

وزیر خارجہ  کاکہناتھاکہ برطانوی پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کی، مسئلہ کشمیر پر بیک ڈور ڈپلومیسی کی ضرورت نہیں سامنے بیٹھ کر بات کرنی چاہیے ، پاکستان کا کردار نہ ہوتا توٹرمپ امن مذاکرات آگے بڑھانے  کے لئے درخواست نہ کرتے، ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ افغان مسئلے میں اب تک کی پیشرفت پرامید ہے، آج ٹرمپ، زلمے خلیل زاد اور سیکریٹری اسٹیٹ پاکستان کے کردار کے معترف ہیں۔

ان کا کہناتھاکہ کلبھوشن سےمتعلق 19فروری کو لیگل ٹیم اپنا کیس پیش کرے گی، ہمارے پاس ثبوت ہیں اور ہمارا کیس مضبوط ہے ، پاکستان سے کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا اور اس نے کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے ، ہمیں حکومت ملی تو تمام ادارے خسارے میں اور ملک پر تاریخی قرضے ہیں ہم نے چیلنجز قبول کیے ،10سال میں جتنے قرضے لیے گئے60سال میں نہیں لیے گئے، افغانستان اہم پڑوسی ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہاں امن ہو،ان کاکہناتھاکہ افغان صدر سے 3 ملاقاتیں کرچکا،واضح طور پر دوستی ،تعاون کا پیغام دے چکا ہوں ، افغان حکومت کو اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینا چاہیے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہناتھاکہ ہم چاہتے ہیں افغان مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک جائیں، پاکستان نے افغانوں کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔