جب والدین ناکام ہوجائیں تو عدالتیں والدین کا کردار ادا کرتی ہیں:چیف جسٹس


اسلام آباد( 24نیوز)ایک سال گزر جانے کے باوجود طیبہ بی بی تشدد کیس ٹرائل میں کیوں مکمل نہیں ہوا،سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار ہائیکورٹ سے کیس کے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق گھریلو ملازمہ طیبہ اور ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کے درمیان راضی نامہ کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان پر مشتمل تین رکن بنچ نے رجسٹرار ہائیکورٹ سے طیبہ تشدد کیس کے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب کرتے ہوئے پوچھا ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ بتایا جائے 10 ماہ گزر جانے کے باوجود ٹرائل کیوں لٹکا ہوا ہے۔
دوران سماعت وکیل راجہ خرم نے کہا کہ ہائیکورٹ نے طیبہ اور جج کے درمیان راضی نامہ مسترد کردیا ہے،میرے موکل ضمانت پر ہیں،اب تک 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم او ایس ڈی ہیں یا معطل ،ضمانتیں کیسے ہوتی ہیں ہمیں سب پتہ ہے، جب والدین ناکام ہوجائیں تو عدالتیں والدین کا کردار ادا کرتی ہیں،جب والدین پیسے لے لیں تو پھر عدالتیں والدین کا فریضہ انجام دیتی ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے آیندہ سماعت پرحاضری کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی نوٹس جاری کردیا۔