زندگی ہو میری پروانے کی صورت یار ب!


ہنگو(24نیوز)اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کردینے کا جذبہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے، 6 جنوری 2014 کی ٹھٹھرتی صبح اعتزاز حسن اپنی والدہ کو الواع کہہ کر گھر سے سکول کیلئے روانہ ہوا تو سورج بادلوں کی اوٹ سے نکلنے کی ناکام کوشش کررہا تھا گورنمنٹ سکول ابراہیم زئی ہنگو کے صحن میں ملیشیا شلوار قمیض اور سر پر کالی ٹوپی پہنے بچے اسمبلی کیلئے جمع ہورہے تھے اعتزاز حسن کی نظر ایک 26سالہ نوجوان پر پڑی جو چادر اوڑھے سکول کی جانب مشکوک انداز میں بڑھ رہا تھاننھے اعتزاز نے فوراً خطرے کو بھانپ لیا،اعتزاز نے ایک نظر سکول پر دوڑائی ،بچوں کو دیکھا ایک طرف ساتھیوں کا ہجوم تھا تو دوسری طرف اپنی جان' بڑا کٹھن مرحلہ تھا ۔آخر کار فیصلہ کرتے ہوئے مشکوک نوجوان سے لپٹ گیا،زوردار دھماکہ ہوا،اعتزاز کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا،جب اعتزاز کا جسم ہوا میں تھا تو نظراپنے سکول کی طرف تھی ۔
اس کی چمکتی نظریں کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا آج تمھارے کل کیلئے قربان کردیا،کلاس کے آخری بینچ پر بیٹھنے والا سب پر بازی لے گیا،جو اپنی جان دے کر سینکڑوں ماﺅں کو رونے سے بچا گیا اور ساتھ ہی ساتھ قوم کو سبق دے گیا کہ ملک کیلئے جان دینے میں کیا اعزاز ہے،انہوں نے سکول میں موجود 400 سے زائد طالب علموں کی جان بچائی،ہنگو کی فضا میں ایک ہی آوازگونج رہی تھی کہ زندگی ہو میری پروانے کی صورت یار ب۔
یاد رہے 6جنوری کو اعتزاز حسن شہید کی چوتھی برسی منائی گئی، اعتزاز حسن کو اس کی بہادری پر تمغہ شجاعت سے بھی نوازا جاچکا ہے اور اس کے اعزاز میں کئی اعلانات بھی کیے جاچکے ہیں لیکن ابھی تک وہ اعلانات پورے نہیں کیے جاسکے،حال ہی میں شہید اعتزاز کی یاد میں 'سیلوٹ' کے نام سے ایک پاکستانی فلم بھی بنائی جاچکی ہے۔

مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں