امریکہ کو پاکستان کی امداد بند کرکےسپلائی لائن بند ہونے کا ڈر


واشنگٹن(24نیوز)امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی امداد تو روک لی لیکن اپنے فائدے کے لیے پینٹاگون نے افغانستان میں اتحادی فوجوں کو پاکستان کے راستے سپلائی جاری رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر دفاع جزل جیمس میٹس نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران پاکستان کی امداد روکنے کے بارے میں سوال کا تو جواب نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے ابھی تک سپلائی کا روٹ بند کرنے کے بارے میں کوئی اظہار نہیں کیا گیا، امریکا پاکستان کو سیکورٹی سے متعلقہ اخراجات کی مد میں جتنی رقم دے رہا تھا،عملی طور پر اس کے دوگنا سے زیادہ ڈالروں کی اسے ہر سال بچت ہو رہی ہے۔
گزشتہ 15 سال کے دوران امریکا کی طرف سے پاکستان کو عسکری اخراجات کی مد میں اوسطا سالانہ 53 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے، 2002 کے بعد 12 سال تک اوسطا سالانہ 57 کروڑ 67 لاکھ ڈالر،، اور اس کے بعد تین سال میں اوسطا سالانہ صرف 34 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دیئے گئے.

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے راستے امریکی فوج کو اشیا ضروریہ کی سپلائی بند ہونے کی صورت میں امریکا کے صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں ایک سے سوا ارب ڈالر سالانہ تک اضافے کا امکان ہے،2011 کے بعد پاکستانی چوکی پر حملے کے بعد پاکستان نے جب افغان بارڈر بند کر دیا، تو صرف ایک ماہ میں ہی نیٹو فوج کے سپلائی کے اخراجات 10 کروڑ ڈالر بڑھ گئے تھے۔