”پتہ نہیں اسحاق ڈار کب تک برطانیہ بیٹھے رہینگے“

”پتہ نہیں اسحاق ڈار کب تک برطانیہ بیٹھے رہینگے“


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے حکومت کو مزید ایک ماہ کا وقت دیدیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ نیب ابھی تک ملزم کو واپس نہ لا سکا، معلوم نہیں اسحاق ڈار کب تک وہاں بیٹھے رہیں گے، پی ٹی وی کرپشن کیس میں ملزموں سے ریکوری کا بھی پوچھ ڈالا۔

نیب کے وکیل جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کا عمل شروع ہوگیا،برطانوی حکومت نے خط کا جواب بھی دے دیا،ملزم کی جائیداد بھی ضبط کرلی گئی ہے۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ بظاہر لگتا ہے کہ خط و کتابت ہو رہی اور جائیداد ضبط کرنے کے معاملے کو تو دو ماہ گزر چکے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ اسحاق ڈار کی واپسی سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،نیب ابھی تک ملزم کو واپس نہ لا سکا،معلوم نہیں وہ کب تک وہاں بیٹھے رہیں گے ۔

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ پی ٹی وی کرپشن کیس میں اسحاق ڈار ، پرویز رشید اور عطاءالحق قاسمی سے ریکوری ہوئی؟حکومت کو دو ماہ کا وقت دیا تھا ،پرنسپل انفارمیشن آفیسر نے آگاہ کیا کہ ملزمان سے ریکوری کی معیادد دو ماہ ہوتی ہے،جو ابھی تک ختم نہیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قواعد و ضوابط سے ہی ریکوری ہونی چاہیے،عدالت نے قرار دیا کہ نیب نے اسحاق ڈار کو وطن واپسی لانے کیلئے سوالنامہ بھجوا دیا،برطانیہ سے جواب کا انتظار ہے،کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی گئی۔