4 ماہ سے بل نہیں دیا، میٹر پھر بھی نہ کٹا

4 ماہ سے بل نہیں دیا، میٹر پھر بھی نہ کٹا


اسلام آباد ( 24 نیوز ) ملک بھر میں بجلی نادہندگان کے خلاف کارروائیاں جاری لیکن وزیراعظم آفس اور وزیراعظم ہاؤس بجلی کے بل ادا نہیں کر رہے،  بلوں کی عدم ادائیگی پر ایکشن کی بجائے دونوں مقامات پر لوڈشیڈنگ تک نہیں ہوتی.

 ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ لیکن وزیراعظم بل دیں یا نہ دیں انہیں بجلی کی ترسیل 24 گھنٹے چاہیے۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت شاہراہ دستور پر تمام بڑے حکومتی دفاتر لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دئیے گئے ہیں، سیکٹر جی 5 اور ریڈ زون کے گرڈ اسٹیشن پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہوئی ہیں۔منسٹرانکلیو، ججز کالونی اور گورنمنٹ ہاؤسز بجلی کی لوڈشیڈنگ سےمستثنی ہیں لیکن دستاویز کے مطابق وزیراعظم آفس3کروڑاوروزیراعظم ہاؤس 9 کروڑ کا نادہندہ نکلا، آئیسکو کے مطابق وزیراعظم آفس نے ایک سال سے بجلی کا بل نہیں دیا جبکہ وزیراعظم ہاوس 4 ماہ سے نادہندہ ہے۔

آئیسکو ریجن میں 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہےمگرسرکاری اداروں کے نہ تومیٹرزکاٹےگئےاورنہ ہی کوئی جرمانہ کیا گیا بلکہ بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاری ہےلیکن ستم ظریفی تویہ ہے کہ اگر عام شہری ایک ماہ کا بل ادا نہ کرپائے تو اس کے گھر کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔