ایران کاامریکا سے انتقام شروع,80 امریکی فوجی ہلاک



تہران(24نیوز) ایران نے آپریشن سلیمانی کے تحت عراق میں دو امریکی فضائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا،حملے میں 80 امریکی فوجی مارے گئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا ایران کشیدگی  جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے، ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا انتقام لینا شروع کردیا،بدھ کو علی الصبح عراق میں دو امریکی فوجی اڈے دھماکوں سے گونج اٹھے، ایران کی طرف سےآپریشن سلیمانی کے نام سےعراق میں امریکی فضائی اڈے عین الاسد پر میزائل داغے گئے، دوسرا حملہ اربل کے فضائی اڈے پر کیا گیا، ایرانی حملے میں امریکی ہیلی کاپٹروں اور فوجی سازو سامان کو نقصان پہنچا۔

فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 80 امریکی فوجی مارے گئے،امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے، تاہم پینٹاگون کی طرف سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی اتحادیوں کو بھی دھمکی دے دی، پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جس امریکی فوجی اڈے سے ایران پر حملہ ہوگا، اسے جوابی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت اپنے دفاع میں مناسب اقدامات اٹھائے، اپنے ٹویٹ میں جواد ظریف نے لکھا کہ ہم کشیدگی یا جنگ نہیں چاہتے،لیکن کسی بھی جارحیت کیخلاف اپنا دفاع کریں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ ایرانی حملے پر پرسکون نظرآئے،حملے کی اطلاع ملنے پر ردعمل دیا کہ اب تک جو ہورہا ہے،درست ہورہا ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، تاہم ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہےٹرمپ انتظامیہ کو ایران کیخلاف اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرنا ہوگی، اور امریکا اور دنیا اب ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

دوسری طرف ایرانی حملے کے بعد امریکا نے کشیدگی میں خاتمہ کی کوششیں شروع کردی ہیں، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے دنیا بھر میں امریکی مشنز کے نام ہنگامی پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتکار اجازت کے بغیر ایرانی اپوزیشن گروہوں سے نہ ملیں، پومپیو نے کہا کہ ایرانی اپوزیشن سے ملاقات کشیدگی میں اضافےکا باعث بن سکتی ہے۔