صرف ایک میٹر

مناظرعلی

صرف ایک میٹر


احساس کتنااہم ہے اس بات کا اندازہ حدیث نبوی کی روشنی میں لگائیں تواس کی اہمیت زیادہ واضح ہوگی،فرمان ہے"مومن مومن کابھائی ہے"۔آپ ﷺ ہی کی بارگاہ میں ایک روزہمسائے کے حقوق پراتنی زیادہ بات کی گئی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کوگمان ہونے لگا کہ کہیں وراثت میں بھی ہمسائے کوحصہ دینے کاحکم نہ ہوجائے۔ دوسروں کی مددکرنا،بھوکوں کو کھاناکھلانا، پیاسوں کوپانی پلانا،ننگے کوکپڑا دینا، بغیرچھت کے گھرانوں کوچھت فراہم کرنا، روزگارمیں مددکرنا، محرومی کودور کرنا،حتی کہ دوسروں کوکچھ دینے سے پہلے یہ دیکھنا کہ جوہم خود استعمال کررہے ہیں اس کامعیاربھی وہی ہے یااس سے کم ترتونہیں۔یہ سب تبھی ہوگاجب احساس ہوگا۔احساس انسانی معاشرے میں پیاراورمحبت کی پہلی سیڑھی ہے،اگراحساس ہی نہ ہوتوپھرقربانی کاجذبہ بھی پیدانہیں ہوسکتا،بعض نے تواسے اس طرح بھی بیان کیاہے کہ اگراحساس مرجائے توانسانیت ہی مرجاتی ہے۔کچھ لوگ انتہائی حساس ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کاپوری طرح احساس ہوتاہے اورکچھ لوگ ایسے لاپرواہ کہ انہیں کوئی فکرنہیں،کون کس حال میں رہ رہاہے،بھوکاہے یاپیاسا،خوش ہے یادُکھی،تندرست ہے یابیمار،دوسرے کے پاس بھی وہ سب ہے کہ جس سے زندگی کا پہیہ چلتاہے یاپھروہ محروم ہیں۔

کافی دنوں سے احساس پرہی مختلف تحریریں پڑھ رہاتھا کہ اسی دوران پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں پروفیسراسدسلیم شیخ کی فیس بک وال پرایک مختصرتحریرنظرآئی جس کا عنوان"بس صرف ایک میٹر "تھا۔پروفیسرصاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں اورایک شفیق استادہونے کیساتھ ساتھ انتہائی مہمان نوازاوردرددل رکھنے والے انسان ہیں ۔اپنی فیس بک پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ"گزشتہ دنوں میری اہلیہ نے ایک بچی ملازمہ رکھی،میں نے اس کااتاپتااورحالات پوچھے،بتانے لگی کہ وہ پانچ بہنیں ہیں،بھائی کوئی نہیں،والدہ بھی گھروں میں کام کرتی ہیں،والدنشے کے عادی ہیں،کبھی مزدوری مل جائےتوکرلیتے ہیں،گھرصرف ایک برآمدے اورچھوٹےسے کچن پرمشتمل ہےاوران کے گھرمیں بجلی بھی نہیں۔کچھ لمحے بعدمغرب کی اذان ہوئی اورمیں مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے چلاگیا جہاں دو ا ے۔سی لگے ہوئے تھےجوٹھنڈی ہوادے رہے تھے۔پوری نمازکے دوران بچی کے حالات ذہن میں رہے اورمسجدکے اے۔سی کی ٹھنڈک میں اپنی عبادتوں پرشک کرتارہا،اسی شک کودور کرنے کے لیے اپنی بیٹی کوملازمہ بچی کے گھربھیجااوران کے لیے بجلی کے میٹرکابندوبست کیا۔اس بچی کی باتوں اورحالات نے مجھے بہت متاثرکیا،اب وہ میرے گھرمیں میری بچیوں کے ساتھ رہے گی،اس کی کفالت اورتعلیم میرے ذمہ ہے"۔

پروفیسراسدسلیم صاحب کی اس پوسٹ کے چوبیس گھنٹے کے دوران درجن سے زائدمخیرحضرات نے ان سے رابطہ کیااورایسے محروم گھرانوں کے لیے ایک ایک بجلی کامیٹرلگوانے کے اخراجات برداشت کرنے کاوعدہ کیاجن کے گھروں میں ابھی تک بجلی کامیٹراُن کی غربت کی وجہ سے نہیں لگ سکا۔مجھے پروفیسرصاحب کی اس سوچ نے متاثرکیاہے اورمیں ان کی اس سوچ کومزیدآگے بڑھانے کی کوشش کررہاہوں کہ ہم سب کواپنے اپنے علاقوں میں ایسے گھرانوں کوتلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ جن کے ہاں غربت کی وجہ سے بجلی دستیاب نہیں،ہمیں اسے اس اندازمیں بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے گلی محلوں میں فلاحی کمٰیٹیاں بناکرایسے معاشی بدحال گھرانوں کوبجلی کے میٹرلگواکران کے بل بھی اداکریں تاکہ جوسہولت ہمارے گھروں میں ہے وہ ہمارے دیگرمستحق بھائیوں کے گھروں میں بھی دستیاب ہوتاکہ وہ اوران کے بچے ہمارے اندراحساس نہ ہونے کے نتیجے میں احساس کمتری کاشکار نہ رہیں۔بات صرف احساس کی ہے اگر ہمارے اندریہ پیداہوجائےتوہم سب مل کرایک دوسرے کے دست وبازوبن کرمعاشرے کی محرومیاں ختم کرسکتے ہیں اوریہ بالکل بھی مشکل کام نہیں، بس ہم نے عزم کرناہے اوراحساس کرتے ہوئے خودسے ایک وعدہ کرناہے کہ ہم اپنے اپنے حصے کادیاجلائیں گےتوجن گھرانوں کی زندگی معاشی بدحالی کی وجہ سے جہنم بن چکی ہیں وہ جنت بن جائے گی۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔