" کٹھ پتلی حکومت سلیکٹڈ کہنے پر ناراض ہوتی ہے تو ہو"



لاڑکانہ ( 24نیوز ) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف قوت کے ساتھ جہاد کے جذبے کے ساتھ تحریک آگے بڑھے گی موجودہ دور میں جیل کے اندر ہوں یا باہر ایک ہی بات ہے۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ میں جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی، اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاستی ادارے ہمارے راستے میں نہ آئیں ہم ان سے ٹکراؤ نہیں چاہتے،جنگجو ہر کام نہیں کر سکتے انہیں صرف جغرافیائی حدود کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ان کا کہناتھا کہ سیاست سیاستدانوں کا کام ہےلیکن یہاں سیاستدان کو کتنا حصہ دیا جائے یہ فیصلے بھی کوئی اور کرتے ہیں، موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں، کٹھ پتلی حکومت سلیکٹڈ کہنے پر ناراض ہوتی ہے تو ہو، ہم اس سے بھی آگے جا کر آپ کو رجیکٹڈ کہتے ہیں، موجودہ حکومت مسلط کردہ ہے، جبری تسلط ملعون نظام ہے جس پر پیغمبر ﷺنے بھی لعنت بھیجی۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہناتھا کہ آمرانا ذہنیت کے لوگ بھی کچھ دانائی رکھتے ہیں، ہم اس جبری تسلط حکومت کے خلاف بغاوت کریں گے عوام کو ٹیکس کے جال میں جکڑا جا رہا ہے اور ملکی معیشیت رک گئی ہے،جمعیت علماء اسلام کی رکنیت سازی مکمل ہوئی ہے 35 لاکھ رکن سازی پر جماعت کے ناظمین کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ملک کا دفاع کرنے والی قوت اپنے حلف کیخلاف کام کرے تو افسوسناک صورتحال ہے، مرضی کے انتخابی نتائج لیے جاتے ہیں۔