سپریم کورٹ بار کا دھرنے کا اعلان

سپریم کورٹ بار کا دھرنے کا اعلان


کوئٹہ( 24نیوز ) وکلا کی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس کے خلاف 14جون سے سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے داخلی راستوں پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے ملک بھر کے وکلا سے اپیل کہ وہ اس دھرنے کی حمایت کریں اور اس میں بھر پور انداز سے شرکت کریں۔یہ اعلان انھوں نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا تنظیموں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، وکلا اسے اس لیے بدنیتی پر مبنی سمجھتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام کارروائیاں خفیہ ہوتی ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سماعت سے پہلے ہی ریفرنس کو اوپن کر کے ان کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔

ان کے بقول یہ میڈیا ٹرائل ان لوگوں کی جانب سے شروع کیا گیا جو کہ حلف کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کوئی راز افشاں نہیں کریں گے۔ اس کی بدنیتی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے 350 شکایتیں موجود ہیں۔

امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 22 کروڑ عوام میں سے کسی کو پتہ نہیں کہ ان شکایتوں میں کس کس کے نام ہیں اور ان کے خلاف کیا کیا الزامات ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کو پہلے ہی افشا کیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ سپریم کورٹ کے 17ججوں میں سے بلوچستان سے واحد جج ہیں جو کہ آئندہ انتخابات تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ریفرنس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے حق سے محروم رکھنے کی سازش بھی سمجھتے ہیں۔ 14جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائیگا۔اسلام آباد میں وکلا سپریم کورٹ کے داخلی راستے پر جبکہ کوئٹہ میں وکلا بلوچستان ہائیکورٹ کے داخلی راستے پر دھرنا دیں گے ۔دھرنا اس وقت جاری رہے گا جب تک حکومت اس ریفرنس کو واپس نہیں لے لیا جاتا یا سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل اسے بدنیتی کی بنیاد پر ختم نہیں کرتے۔ خواہ اس دھرنے میں ایک دن لگے، ایک ہفتہ لگے، ایک ماہ لگے یا ایک سال یا اس سے زائد کا عرصہ لگے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ اس روز اس ریفرینس کے نقول کو بھی بطور احتجاجاً نظر آتش کیا جائے گا۔ ملک کے تمام وکلا سے اپیل ہےکہ 14جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کریں۔ہماحتساب کے خلاف نہیں لیکن احتساب تمام اداروں کا بلا امتیاز اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer