سیاسی باراتیوں کو ایوان بالا کا دولھا مل گیا؟


اسلام آباد: ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات سے غیریقینی کی صورتحال کے بادل چھٹ چکے ہیں،بظاہر لگتا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی، ملک میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہوگی،ایوان بالا کے باراتی تو پورے ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک دلہا نہیں مل رہا،دولہے کے انتخاب کیلئے حکومت اور اپوزیشن میں نوراکشتی جاری ہے،دھمکیوں،گالیوں سے بات منتوں تک آن پہنچی ہے، جوڑ توڑ جاری ہے ،سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنے اتحادیوں سے ملاقات کررہے ہیں توسابق آصف علی زرداری بھی سکون سے نہیں بیٹھے ہیں وہ بھی اپنے پسندیدہ چیئرمین کے انتخاب کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں ،میاں رضا ربانی کا نام تجویز کرکے نواز شریف نے سیاسی برتری حاصل کی ہے اور زرداری صاحب نے مسترد کرکے ”پرو اسٹیبلشمنٹ“ہونے کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اگلا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا؟ پی ٹی آئی نے سرپرائز دے دیا
سینٹ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں وہ ادارہ ہے جس میں فیڈریشن کے تمام یونٹس کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے،یہ 104 ارکان پر مشتمل ہے،چاروں صوبوں کے تئیس،تئیس سینیٹرز ہیں،ان میں جنرل،ٹیکنوکریٹ،اقلیتی اور خواتین کی نشستیں شامل ہیں،وفاق کی چار اور فاٹا کی کل آٹھ نشستیں ہیں،تین مارچ کو 46 نشستوں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے گئے،جس میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ15 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور ان آزاد امیدواروں کی مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت کے بعد وہ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے،مسلم لیگ نواز کے پہلے سے 18 اراکین موجود ہیں اور نئے اراکین کی شمولیت کے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کی مجموعی تعداد 33ہو گئی ہے(آزاد ارکان کو اگر ن لیگ کی شناخت ملی تو)ان انتخابات سے قبل سینٹ کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ دوسری نمبر پر چلی گئی ہے تاہم وہ اعدادوشمار کے برعکس کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کے پرانے اراکین کی تعداد آٹھ تھی اور اب 12 نئے امیدوار کی جیت کے بعد سینیٹ میں ان کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ میں مجموعی نشستیں 12 ہو گئی ہیں جبکہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم صرف ایک نشست لینے میں کامیاب ہوئی ہے،جے یو آئی ( ف)اور جماعت اسلامی نے ایک نشست اپنے نام کی ہے،فاٹا اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں،یہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: نواز شریف کے بعد بلاول بھٹو کی عمران خان کو بڑی پیشکش
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی چیرمین سینیٹ کیلئے جوڑ توڑ میںتحریک انصاف کا اس معاملے میں امتحان سخت ہوتا جارہا ہے،پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور آزاد اراکین کی حمایت کے ساتھ میدان میں ہے اورمسلم لیگ ن بھی اتحادی جماعتوں کےساتھ اپنے امیدوارکی کامیابی کیلیے پرعزم ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے پلڑا بھاری ہے ممکنہ طور پر سینیٹ میں پیپلز پارٹی کو 55 امیدواروں کی حمایت حاصل ہے،تحریک انصاف کے 12 سینیٹرز نے چیئرمین اور ڈپٹی چیرمین سینیٹ کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کا فیصلہ کرلیا ہے،بلوچستان کے 7 اور فاٹا کے6 آزاد اراکین بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دے سکتے ہیں،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی ایک نشست بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے،بلوچستان اور فاٹا کے آزاد اراکین،متحدہ قومی موومنٹ کے پانچ اور عوامی نیشنل پارٹی ک ایک امیدوار انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔


سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کو 33 نشسیں مل گئی ہیں،اتحادی جماعتیں، جمعیت علمائے اسلام ف کے چار، پختونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پانچ، پانچ اور مسلم لیگ فنکشنل کے ایک امیدوار بھی ن لیگ کے ساتھ ہیں، فاٹا کے دو آزاد سینیٹرز نے بھی ن لیگ کے حمایت کا اعلان کررکھا ہے حکومتی پارٹی کو اب تک 48 امیدواروں کی حمایت حاصل ہے،یہاں جماعت اسلامی کے 2سینیٹرز ہیں ان کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔

ضرور پڑھئے: ہم نے بار بار کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ غلط ہے، عمران خان
دوسری طرف ”دھاندلی“اور ہارس ٹریڈنگ کے شور میں کمی تو آئی ہے لیکن کریڈیبلٹی پر سوال تاحال موجود ہیں،حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے ممبران اسمبلی کے خریدے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں،یہ بات تو یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پیسہ تو پانی کی طرح بہایا گیا ہے جس کا مختلف حوالوں سے ثبوت بھی موجود ہے،پنجاب میں یہ الزام تحریک انصاف پر ہے تو خیبر پی کے میں مسلم لیگ ن اس زد میں آئی ہے اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا کریکٹر ڈھیلا نظر آتا ہے ،اس تمام کے باوجود کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے،اب چونکہ مرحلہ چیئرمین سینیٹ کا ہے تو اس میں بھی ایک واضح جھول نظر آتا ہے،ایم کیو ایم اپنی سانسیں برقراررکھنے کیلئے ”وینٹی لیٹر“کا سہارا لے رہی ہے۔ 


اطلا عات کے مطابق نون لیگ پرویزرشید کو اپنا امیدوار نامزد کرسکتی ہے اور پیپلز پارٹی سلیم مانڈوی والا کو ۔پیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ رضا ربانی کو نامزد نہ کرکے بلا وجہ مشکل سے بچنا چاہتی ہے اور ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل قبول بندے کو لاکر اپنے گرد مزید گھیرا تنگ کروانے کے درپے ہے،ایوان بالا کا دولہا کوئی بھی بنے ،سہر ا ن لیگ کا امیدوار سجائے یا پیپلز پارٹی کا امتحان تحریک انصاف کی ساکھ کاہوگا،عمران خان کی ”جنگ“کا ہوگا جو انہوں نے دونوں جماعتوں کیخلاف شروع کررکھی ہے،یہ ن لیگ کا ساتھ تو کبھی نہیں دینگے جس کا برملا اعلان بھی کرچکے ہیں اور پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں تو پھر بھی ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ثبت ہوجائے گا کیوں کہ بقول ان کے ”سب سے بڑے چور“کے ساتھ اتحاد ناممکن ہے،بہتر تو یہی ہے کپتان سولوفلائٹ کرکے عزت بچا لیں جس کا ان کو عام انتخابات میں فائدہ ہوگا۔

تحریر:اظہر تھراج

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں