فیصل آباد: ن لیگ کا سوشل میڈیا کنونشن ناکام، مریم نواز کس کو ڈھونڈتی رہیں؟


فیصل آباد (24 نیوز) مریم نواز کے جلسہ سے مقامی رہنماؤں کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ جلسہ کی سکیورٹی کے نام پر شاہراہیں بند کرنے سے شہری دن بھر خوار ہوتے رہے۔

مریم نواز کی فیصل آباد آمد ن لیگ میں دھڑے بندی کو ایک بار پھر واضح کر گئی۔ صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ نے اسٹیج کا کنٹرول سنبھال رکھا تھا۔ اسی لیے عابد شیر علی اس طرف نہ آئے۔ وہ پنڈال میں عام لوگوں کے ساتھ جھوم کر نعرے لگا کر اس زیادتی کو بھلانے کی کوشش کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے:نواز شریف نے عدالت سے نکلتے ہی بڑا اعتراف کرلیا

فیصل آباد میں مریم نواز کے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن کے لیے دھڑلے سے بجلی چوری کی گئی۔ اس کھلے عام قانون شکنی پر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔

مسلم لیگ ن کا کنونشن شہریوں اور خصوصی بچوں کے لیے عذاب بن گیا۔ خصوصی بچوں کا سکول سکیورٹی خدشات پر بند کر دیا گیا۔ گورنمنٹ کمیونٹی کالج بند اور ارد گرد کی تمام شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں جس سے لوگ خوار ہوتے رہے۔

فیصل آباد کے بھلکڑ ایم پی اے نے مریم کے جلسہ کے پاس سب کو دئیے مگر اپنے والد کو بھول گئے۔ نواز ملک اور میر رزاق ملک کے والد کو گیٹ پر روک لیا گیا جس پر وہ فٹ پاتھ پر بیٹھے رہے۔

مریم نواز کے سوشل میڈیا کنونشن کے لیے ایک روز پہلے ہونے والی ٹرانسپورٹ کی پکڑ دھکڑ کے خلاف ڈرائیورز نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے گو نواز گو کے نعرے لگائے جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

پڑھنا نہ بھولئے :سیاسی باراتیوں کو ایوان بالا کا دولھا مل گیا؟ 

کنونشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کوکڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ فیصل آباد میں خطاب میں سوشل میڈیا کنونشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پانچ ججز نے عدالت عظمیٰ کو سیاسی جماعت بنا ڈالا۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ اپنے کھلاڑی کو گیند بھی دیا۔ راستہ سے مخالف کھلاڑی بھی ہٹائے اور گول کیپر بھی مگر لاڈلا پھر بھی گول نہیں کر سکا۔ قبل ازیں فیصل آباد میں ن لیگ کے سوشل میڈیا کنونشن میں شرکت کے لیے مریم نواز کی آمد پر لیگی شیروں نے پُرتپاک استقبال کیا اور ن لیگ کے حق میں خوب نعرے بازی کی۔

اس موقع پر طلال چودھری، رانا ثنا اللہ اور پرویز رشید بھی مریم نواز کے ہمراہ تھے۔

یہ ویڈیو بھی ضرور دیکھیں: