سپریم کورٹ کا سابق مشیر ہوابازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں مختلف مقدمات کی سماعت آج بھی جاری رہی ،جن میں موبائل فون کارڈز پر کمپنیوں کے اضافی ٹیکس پرازخود نوٹس،اسحاق ڈار معطلی کیس وغیرہ شامل ہیں۔
موبائل فون کارڈ از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے، جبکہ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے،انہوں نے کہا کہ سروس چارجز کیوں لیے جاتے ہیں؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا جواب تو موبائل فون کمپنیاں ہی دے سکتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت اور سفارتکاروں سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیوں لگا دیا گیا تو ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 100 روپے کے کارڈ پر 42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لئے جاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس وہی شخص دے گا جو ٹیکس دینے کا اہل ہوگا، 14 کروڑ عوام سے ود ہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایون فیلڈ ریفرنس:ملزمان کا بیان قلمبند کرنے کا فیصلہ آج ہو گا

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانا ہے، جب کہ سروس چارجز بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے۔ سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا جب کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کرلیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آﺅں گا، پوچھا جائے گا پٹرول ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ موبائل کارڈ کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

دوسرے کیس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اورآڈٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق مشیر ہوابازی شجاعت عظیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔

ویڈیو دیکھیں: سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر سے متعلق کیس نمٹا دیا