داتا دربار دھماکہ، وزیراعظم سمیت دیگر سیاسی رہنماوں کی مذمت



وزیر اعظم ،سابق صدر آصف زرداری اوربلاول بھٹو سمیت دیگر کی داتا دربار دھماکے کی مذمت کی ہے۔قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم کی زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ واقعہ کی رپورٹ بھی فوری طور پر  طلب کر لی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی،  وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کوحملے کے ماسٹرمائنڈزتک پہنچنے کی ہدایت اور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیااور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا بھی کی۔

 وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے داتا دربار کے باہر دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے دورے منسوخ کرتے ہوئے امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا  کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی داتا دربار دھماکے کی شدید مذمت کی اورقیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔

وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری نے داتادربار کے باہر دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کا خون بہانے والے دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں،رمضان کے مقدس مہینے میں انسانی جانیں لینے والے درندوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دکھ اور غم کی گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں.

ضرور پڑھیں:انکشاف، 23 جون 2019

 قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے داتادربار کے باہر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی پرقابو کیا گیا تھا۔ لیکن ایک بار پھر دہشتگردی کا آناافسوسناک ہے،نیشنل ایکشن پلان پربریفنگ کوفراموش کرناغفلت کی انتہاہے۔

پنجاب کے صوبائی وزیرصنعت میاں اسلم اقبال نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد داتا دربارکے اندر داخل ہونا چاہتا تھا، 48 گھنٹوں میں دہشتگرد کے سہولت کاروں کو ٹریس کرلیں گے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔