شدت پسندی کی وجہ کیا ہے؟

شدت پسندی کی وجہ کیا ہے؟


تحریر:نتاشہ رحمٰن

رویوں میں شدت پسندی پاکستان میں کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوتی جا رہی ہے، مانا کہ شدت پسندی ہر معاشرے اور تہذیب میں ہوتی ہے مگر اتنی نہیں جتنی ہمیں پاکستان میں نظر آرہی ہے لوگوں میں برداشت ختم ہوتی جارہی ہے،ملک کے حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ یہاں شدت پسندی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کررہی ہے، کسی ملک کو ترقی کرنے کیلئے اس کاتعلیمی نظام بہتر ہونا ضروری ہے مگر ہمارے ملک میں تعلیمی نظام اور شدت پسند رویوں کی وجہ سے سماج بکھر رہا ہے، عدم رواداری ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے پاکستان پہلے دن سے ہی کوئی قومی اور انسان دوست پالیس بنانے سے قاصررہا ہے. کلاس روم کا ماحول معاشرے کے تابع ہے حالانکہ معاشرے کو کلاس روم کے زیر اثر ہونا چاہیے، کسی معاشرے کی تعلیمی پالیسی اور اس کو بروئے کار لانے والے اساتذہ ہی نئی نسل کی ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں مگر کلاس میں اساتذہ ایسا سخت رویہ کلاس روم میں استعمال کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے طلباءوطالبات بھی وہی رویہ اپناتے ہیں،سماجی رویوں میں تبدیلی میں استاد کا ایک کردار تھا مگر آج کا استاد اس سے سبکدوش ہو چکا ہے، پاکستان میں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی دن دھرنا دیتے ہیں جس سے نظام زندگی متاثر ہوتی ہے اور ملک کا نقصان ہوتا ہے لوگوں کا رویہ ایک دوسرے سے سخت ہوجاتا ہے، پاکستان میں رویوں میں شدت پسندی کی فصل پکتی جا رہی ہے ،تنگ نظری،اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت، عدم برادشت اور جارحیت ہمارے مزاج کا حصہ بنا ہے۔

آئے دن مرد خصرات غصے میں آکر خواتین کو قتل کر رہے ہیں ،کبھی خواتین پر تیزاب ڈال دیا جاتا ہے تو کبھی خواتین حالات سے تنگ آکر خود کشی کر لیتی ہیں،آج کے دور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیس زیادہ ہوتے جارہے ہیں اور پاکستان کا نظام تعلیم کوئی ایسا کردار ادا کرنے میں ناکام ہے جس سے عوام میں سماجی شعور اور انسانی روہے بدل سکیں اور ہم تعصبات کی تنہائی سے نکل کر عالمگیر معاشرے کا باوقار حصہ بن سکیں،ہم خطے میں امن،سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں ،ضرورت اس کی ہے ہمیں اپنے رویوں میں نرمی لانی چاہیے تاکہ ملک میں لڑائی جھگڑا ،دھرنوں کی وجہ سے نقصان سے بچا جا سکے ہیں حکومت کوئی ایسی پالیسی بنائے جس سے عوام کے رویوں میں شدت پسندی کو ختم کیا جا سکیں۔