منشاء بم کی کارستانیوں کا سارا کچا چٹھا کھل گیا

منشاء بم کی کارستانیوں کا سارا کچا چٹھا کھل گیا


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے قبضہ مافیا منشاء بم کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے  سول جج کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایل ڈی اے کو تمام مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں قبضہ مافیا منشاء بم کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت  کی ، عدالت کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں جے آئی ٹی قائم کی گئی تھی جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کر دی ،  رپورٹ کے مطابق منشاء بم حراست میں ہے اس سے کچھ ریکوری بھی کی ہے۔

ڈی آئی جی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ منشاء بم کے خلاف 66 مقدمات تھے، 19 زمینوں پر غیر قانونی قبضے سے متعلق تھے،  جبکہ9 مقدمات میں تفتیش ہو رہی ہے،منشاء بم نے 32 کنال زمین پر قبضہ کر رکھا تھا جو کہ واگزار کرا لیا گیا ہے، ڈی آئی جی نے بتایا کہ ان معاملات میں رپورٹ پیش کروں گا ۔

سماعت کے دوران  عدالت میں ایک شخص محمود اشرف نے کہا کہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں، میرے 9 پلاٹوں پر منشاء بم نے قبضہ کر رکھا تھا، چیف جسٹس کا مشکور ہوں اور لاہور پولیس نے تاریخ میں پہلی دفعہ بہت اچھا کام کیا ہے۔

 سپریم کورٹ نے سول جج کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایل ڈی اے کو تمام مقدمات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ،عدالت نے مزیدسماعت دو ہفتوں کےلئے ملتوی کر دی گئی ۔