پاکستان میں آنے والی قیامت صغریٰ کو آج تک کوئی نہ بھول سکا

پاکستان میں آنے والی قیامت صغریٰ کو آج تک کوئی نہ بھول سکا


24نیوز:8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے13سال بعد بھی بحالی و تعمیر نو کا کام مکمل نہ ہو سکا، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے تباہ ہونے والے شہر تو دوبارہ آباد ہو گئے لیکن اسپتال،اسکول اور کالجز تاحال ابھی تک نہیں بن سکے۔

 تفصیلات کے مطابق8اکتوبر 2005کا زلزلہ قیامت صغری تھا جس میں 75 ہزار افراد لقمہ اجل بنے اس سے کہیں زیادہ زخمی جبکہ ہزاروں بے گھر ہوئے، لاکھوں مکانات منہدم اور اربوں کی املاک تباہ ہوئی،جس کی تعمیر کے لئےپاکستان اور بیرون ملک سے اربوں روپےکی امداد آئی ، مگر13سال بعد بھی تعمیر نو کا کام مکمل نہ ہو سکا، سکول بنے نہ اسپتال، منصوبے فائلوں میں ہی پڑے ہیں۔


متاثرین زلزلہ بھی اس صورتحال سے خاصے پریشان ہیں  اورانہوں نےاپنے مسائل کےحل کے لئے چیف جسٹس پاکستان کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے ، زلزلےسےبستیاں کی بستیاں اجڑ گئیں، شہرتو دوبارہ آباد ہو گئےلیکن سکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی جس سے زلزلہ زد گان کی مشکلات کم ہونے کو نہیں آ رہیں.