’’ کیا ایسا ہوتا ہے نیا پاکستان، وزیراعظم سے ناخوش ہیں‘‘


24نیوز: ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں نیا موڑ آگیا، سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، آئی کلیم امام اور احسن جمیل گجر کی معافی قبول کر لی، وزیراعلیٰ پنجاب نے جواب بھی واپس لے لیا ، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ایسا ہوتا ہے نیا پاکستان، وزیراعظم سے ناخوش ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا جواب واپس لے لیا، آئی جی کلیم امام اور احسن جمیل گجر نے بھی معافی مانگ لی، چیف جسٹس نے کہا کہ معافی نہیں دی جائے گی جیل بھیجیں گے،یہ کہا گیا جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے،کیا نئے پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ وزیراعظم کو بتادیں وہ ان سے نا خوش ہیں۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ خالق داد رپورٹ مبہم ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ ایک ذمہ دار افسر کےخلاف اس طرح کی زبان استعمال کریں گے؟عدالت رول آف لا کےلیے کام کررہی ہے، ڈی پی او کے بارے میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ صبح اس کی شکل نہیں دیکھیں گے،ایڈووکیٹ جنرل معاملے کو ہلکا لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی بنائیں گے،تحقیقات وہ خود کریں گے،وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی کلیم امام اور احسن جمیل گجر کی معافی قبول کر تے ہوئے تینوں کے خلاف ازخود نوٹس نمٹا دیا،  پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں احسن جمیل گجر نے امید ظاہر کی کہ انہیں کلین چٹ مل جائے گی۔ آئی جی کلیم امام نے پولیس افسروں کے ایک دوسرے پرالزام تراشی کے سوال کا جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔