ملک کیلئے ڈیم کیوں ضروری ہے؟



لاہور( 24نیوز )ملک کیلئے ڈیم کیوں ضروری ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو برسوں سے ہمارے ذہنوں پر دستک دے رہا ہے،ماہرین اس کے بارے میں اپنی رائے دے چکے،وہ اکثر ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کے ضمیر کو بھی جنجھوڑتے رہتے ہیں،اس سوال کا جواب آپ کو صومالیہ کے صورتحال سے مل سکتا ہے،وہاں کی بدامنی اور گھر گھر  ناچتی بھوک' پریشان مائیں اور بھوک سے مرتے بچے دکھائی دیتے ہیں،نظرمعصوموں کے چہروں اور پیٹ کی نکلی ہیڈیوں پر جاتی ہے،ننگے بدن وہاں کی بدحالی کا چیخ چیخ کر اعلان کررہے ہوتے ہیں،ایک تحقیق کے مطابق صرف تین سالوں  2010سے 2012کے درمیان تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے ،یہی حال ہمارے ملک  کےصحرائی علاقوں کا ہے،سب سے گھمبیر صورتحال سندھ کے ضلع تھرپار کر کی ہے جہاں ہرسال غذائی قلت اور نامناسب طبی سہولیات سے  کئی بچے مرجاتے ہیں،پانی اور خوراک نہ ملنے  سےجانور اپنی سانسیں برقرار نہیں رکھ پاتے،خدانخواستہ یہی صورتحال پورے پاکستان کی ہوگئی تو کیا ہوگا؟

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خشک سالی کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں باغات اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے، بڑے رقبے پر گندم کی بوائی شروع نہ ہو سکی جبکہ ترش پھلوں کے بہت سے باغات کو نقصان ہوا ہے،سرکاری اعدادو شمار کے مطابق  2016میں ملک میں گندم کی پیدوار 1.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 25ملین ٹن سے زائد رہی تھی جس کے بعد دنیا میں گندم پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں سے چھٹے نمبر پر آ گیا تھا،ملک بھر میں 20 سے 25 ملین ایکڑ زمین پر گندم کاشت کی جاتی ہے مگر  2017میں بارش نہ ہونے کے سبب  اکثر زمیندار اور کسان  بوائی نہ کرسکے اور گندم کی پیداوار ہدف سے کم ہوئی ،اسی طرح مالٹے اور کینو کا شمار پاکستان کے اہم پھلوں میں ہوتا ہے جن کے باغات مجموعی طور پر 194,000 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں، سرگودھا اور ہری پور کے علاقے خانپورکا ریڈ بلڈ مالٹا اپنے ذائقے کی بنا پر بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے، مگرخشک سالی ان کی پیداوار کو بھی متاثر کرر ہی ہے،یہی صورتحال دالوں،چاولوں اور دیگر فصلوں کی ہے،کبھی کبھی تو قدرت کی طرف سے آزمائش کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے،پکی پکائی فصل کو یا تو سیلاب بہا لے جاتا ہے یا پھرژالہ باری کام دکھا جاتی ہے۔

بر وقت بارشوں کا نہ ہونا اور پھر بے وقت ہونا بدترین موسمی تبدیلی  جو کہ نہ صرف انسانی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ زراعت کے شعبے میں بھی بدترین مسائل پیدا کررہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں ہماری نسلیں خوراک کے بدترین بحران کا شکار ہو سکتی ہیں،خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اسکی ”ٹن ٹن“کی آوازاہل اقتدار اور ہم سب کو یہ آواز  چیخ چیخ کر کہہ رہی ہےجاگ جا ئو ورنہ نشان عبرت بن جائو گے۔

شاید یہی آواز سن کر نئے پاکستان کے حکمران جاگ چکے ہیں،اسی لئے ہنی مون پیریڈ میں ہی عوام کے آگے جھولی پھیلا دی ہے،وزیر اعظم نے چیف جسٹس کی ڈیم مہم کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کی جیبوں سے رقوم نکالنے کی اپیل کی ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں دینے کا کہا گیا ہے،یہ اپیل اچھی ہے،اگر سب پاکستانی ایک ہونے کا عہد کرلیں تو ایک نہیں دس  ڈیم بن سکتے ہیں،ملک کا قرضہ اتر سکتا ہے،آئیں عہد کریں ہم پاکستان کو صومالیہ نہیں بننے دینگے،بچوں کو بھوک افلاس کی تصویر نہیں ،خوشحالی کا نمونہ بنائینگے۔