لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والا وکیل رہا

لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والا وکیل رہا


لاہور( 24نیوز )فیروزوالاکچہری میں لیڈی کانسٹیبل کوتھپڑمارنےوالے وکیل کو رہاکردیاگیا،کانسٹیبل فائزہ نےاعلیٰ حکام سے واقعےکانوٹس لینےکامطالبہ کردیا۔

 تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس اپنی ہی لیڈی کانسٹیبل کوانصاف نہ دلاسکی، فیروزوالاکچہری میں لیڈی پولیس اہلکارکو تھپڑ مارنےوالاوکیل رہا کردیا گیا،پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں غلط نام لکھنا، ملزم کی رہائی کی وجہ بنا،پولیس والےاپنی ہی ساتھی لیڈی کانسٹیبل کےساتھ نا انصافی کرگئے، ملزم وکیل کانام ایف آئی آرمیں غلط درج کیاگیاجس بناپرعدالت نےملزم احمدمختارکوضمانت پررہا کردیا، لیڈی کانسٹیبل سےپوچھاتک نہ گیاکہ اسےتھپڑکس نےمارا۔

احمدمختارکانام احمدافتخارلکھنےکی غلطی کافائدہ ملزم کوہوا، کیاوکیل کانام جان بوجھ کرغلط لکھا گیا؟بدسلوکی کاشکارکانسٹیبل عدالتی فیصلے پرمایوس ہوگئی، خاتون اہلکار کا کہناتھا کہ کیایہی ہےملک میں عورت کی عزتکہ کوئی بھی اسےسرعام تھپڑ مارکرچلاجائے؟ لیڈی کانسٹیبل نےچیف جسٹس پاکستان اوراعلیٰ حکام سےواقعےکانوٹس لینےکی اپیل کردی۔

دوسری جانب معاون خصوصی برائےاطلاعات فردوس عاشق اعوان نےکہاکہ پنجاب پولیس کے کینسرکاعلاج ڈسپرین سےنہیں ہوگا، اس کیلئےآپریشن کی ضرورت ہے،معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نےکہاکہ وکیل نے ایک لیڈی کانسٹیبل کوہی نہیں بلکہ پورے ملک کی ورکنگ لیڈیز کو تھپڑ مارا ہے،واضح رہے کہ ملزم وکیل احمد مختارنےغلط پارکنگ سےمنع کرنےپر کانسٹیبل فائزہ نوازکو تھپڑمارا تھا۔