حکومتی اقدام نے زرعی صارفین کیلئے مشکل کھڑی کردی

حکومتی اقدام نے زرعی صارفین کیلئے مشکل کھڑی کردی


اسلام آباد( 24نیوز ) کھاد فیکٹریوں نے تین سو ارب روپے والے آرڈیننس کے خاتمے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا فیصلہ کر لیا، کھاد کی بوری میں دو سو روپے اضافے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے گیس انفرااسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس دینےکافیصلہ واپس لےلیاگیا، کھاد کی قیمتوں میں اضافے کاامکان ظاہر کیا جارہا ہے،تجزیہ کاروں نے رائے دیتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا کہ یوریا کھاد کی بوری200روپے تک مہنگی ہوسکتی ہے، فیکٹری مالکان کاکہناتھا کہ مہنگی گیس کےباعث سستی کھادفراہم نہیں کرسکتے،یکم جولائی سے گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،فی بوری 200روپے خسارہ اٹھانا پڑرہا ہے۔

حکومت کی طرف سے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس آرڈیننس کےذریعے مختلف صنعتوں کو300بلین کی رعایت دی تھی جیسے واپس لے لیا گیا ہے،گیسوں کمپنیوں کے مطابق اب کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے، اس اضافے کا سارا بوجھ غریب کسان کو برداشت کرنا پڑے گا۔

فرٹیلائزرمینوفیکچررزآف پاکستان ایڈوائزری کونسل کےایگزیکٹوڈائریکٹرشیرشاہ ملک کےمطابق آرڈیننس واپس لیناحکومت کاغلط فیصلہ ہے،اب کھاد کی قیمت میں اضافہ کرنافیکٹری مالکان کاحق ہے۔