چیف جسٹس پاکستان کی نظر بلوچستان پر بالآخر پڑ ہی گئی


کوئٹہ (24نیوز) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ میں عدالت لگالی۔ صحت اور تعلیم کے مسائل پر وزیراعلیٰ بلوچستان کو بلا لیا۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ رجسٹری میں سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجز کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کو عدالت میں طلب کرلیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ساری مصروفیات ترک کر کے سیدھے عدالت پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: چیف جسٹس کا سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کو انصاف میں تاخیر کا نوٹس

وزیر اعلیٰ بلوچستان سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹروں نے ہڑتال کیوں کی۔ مریضوں کو کون دیکھ رہا ہے؟وزیر اعلی بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ ابھی حکومت سنبھالی ہے۔ حالات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ مریضوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں۔ ساتھ ہی چیف سیکرٹری بول پڑے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی مستقل تعیناتی کا مسئلہ ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ گورننس کے معاملات تو آپ نے دیکھنے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ وسائل نہیں ہوں گے تو ڈاکٹروں کی کمی اور ادویات کا مسئلہ ہو گا۔

پڑھنا نہ بھولئے: ن لیگ کے 8 ارکان اسمبلی مستعفی، نئے ’محاذ‘ کا اعلان 

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کا مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو گیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ پانچ سو ارب ایک ہی دن میں مل جائیں۔ معاملہ کو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے طور پر نہ لیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں عوامی مسائل حل ہوں۔ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے ہم روزانہ سماعت کرنے کو تیار ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جتنے بھی سو موٹو لیے نیک نیتی سے لیے۔ بنیادی حقوق سےمتعلق ازخود نوٹس لینے کا مطلب ان پر عمل درآمد کرانا ہے۔ چیف جسٹس کے کہنے پر سول ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ہڑتال بھی ختم کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کوئٹہ میں مصروف دن گزارا۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں عشائیہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جتنے بھی ازخود نوٹس لیے نیک نیتی سے لیے۔ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ رجسٹری میں سرکاری ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صحت اورپانی کی صورتحال پر فوکس کریں۔ عام آدمی کو بہتر اور سستہ علاج کی فراہمی ہو۔

چیف جسٹس نے ہڑتالی ڈاکٹروں سےملاقات کی۔ مطالبات سنے اور سیکرٹری صحت کو مطالبات حل کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس کی یقین دہانی کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی۔