پی سی بی کے نئےسینٹرل کنٹریکٹ پر انگلیاں اُٹھنے لگیں

پی سی بی کے نئےسینٹرل کنٹریکٹ پر انگلیاں اُٹھنے لگیں


لاہور( 24نیوز ) پاکستان کرکٹ بورڈنے کھلاڑیوں کیلئے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان کردیا،سینٹرل کنٹریکٹس پرکسی کھلاڑی کونوازنے کی بوآنے لگی توکسی کے ساتھ زیادتی کاتاثرملنے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے جون 2020 تک 19کھلاڑیوں کوسینٹرل کنٹریکٹ دے دیا،لیکن کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی درجہ بندی پرسوال اٹھنے لگے ہیں، پی سی بی نے ماہانہ 11لاکھ معاوضے کی اے کیٹیگری میں کپتان سرفرازاحمد ،بابراعظم اوریاسرشاہ کوشامل کیا ہے،لیکن ان میں یاسرشاہ کی شمولیت پربڑا سوالیہ نشان ہے۔

یاسرشاہ کوصرف ٹیسٹ میچز کھلائے جاتے ہیں اورپورے سال میں پاکستان نے صرف چھ ٹیسٹ میچ کھیلنا ہیں جس میں سے دومیچ آسٹریلیا میں ہیں جہاں یاسرشاہ کا ریکارڈ بھی اچھا نہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرپی سی بی کی ترجیح ٹیسٹ کرکٹ ہے تواظہرعلی اوراسدشفیق اے کیٹیگری کی جگہ بی کیٹیگری میں کیوں ہیں؟اظہرعلی ٹیسٹ کے نئے ممکنہ کپتان ہیں جبکہ اسدشفیق ملک کیلئے لگاتار64ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں یاسرشاہ کونوازنے اوراظہرعلی اوراسدشفیق کے ساتھ زیادتی کا تاثر دے رہے ہیں،کچھ ایسا ہی معاملہ وہاب ریاض اورمحمدعامر کی کیٹیگریوں میں بھی سامنے آیا ہے۔

پی سی بی نے ورلڈکپ میں 17وکٹیں لینے والے اورون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کے لیڈنگ باؤلر محمدعامرکوسی کیٹیگری میں پھینک دیا ہے جبکہ دوسال سے ٹی ٹوئنٹی اورایک سال سے ٹیسٹ سے باہررہنے والے وہاب ریاض کوبی کیٹیگری میں شامل کیا گیاہے۔

ماہرین کا کہنا تھا ایک عرصہ کرکٹ سے دوررہنے والے وہاب ریاض کوبی کیٹیگری دینا اورمحمدعامرکوسی کیٹیگری میں شامل کرنا سمجھ سے بالاترفیصلہ ہے۔

ضرور پڑھیں:ضمیر کی آواز