فیض آباد دھرنا کیس، راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم

فیض آباد دھرنا کیس، راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم


اسلام آباد (24نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت، راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ 12 فروری تک رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ذمہ داروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے۔

 تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی۔ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش نہ ہوسکی۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی کا ایک ممبر ملک سے باہر ہے وزیرداخلہ کی غیر موجودگی میں رپورٹ نہیں دے سکتےجس پر جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیئے عدالت کےساتھ کھلواڑ بند کردیں۔ دھرنے والوں کےساتھ معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیسے استعمال ہوا؟سیکریٹری داخلہ رپورٹ دیں۔

ضرور پڑھیں:انکشاف 16 جون 2019

ڈی جی آئی بی کی جانب سے رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت نے سخت سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا کہ تحریری طور پر رپورٹ پیش کی جائے۔فون ریکارڈ کرنا آئی بی کا کام نہیں ہوتا ۔آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ اورڈی جی آئی بی سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک کمیٹی رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ذمہ داروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے۔ عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت مسترد کرتے ہوئے سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔