آئین سے متصادم قانونی،انتظامی اقدامات کالعدم قرار دے سکتے ہیں: چیف جسٹس

آئین سے متصادم قانونی،انتظامی اقدامات کالعدم قرار دے سکتے ہیں: چیف جسٹس


اسلام آباد (24 نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قانونی یا انتظامی اقدامات آئین سے متصادم ہوں تو کالعدم قرار دے جا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس میں نوازشریف کی نااہلی پر دلائل دیئے گئے۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالت صرف نوازشریف کی حد تک نہیں عمومی طورپر قانون کو دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آرمی چیف نے 7 دہشتگردوں کی پھانسی کی سزا پر دستخط کر دیئے

انھوں نے واضح کیا کہ پارٹی صدارت سے متعلق شق آئینی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ جائزہ لینے کا اختیار شرعی عدالت کو حاصل ہے۔ ریمارکس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ قانونی یا انتظامی اقدامات آئین سے متصادم ہوں تو کالعدم قرار دیئے جا سکتے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے:عمران خان نے الیکشن کمیشن کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے

یاد رہے کہ نا اہل شخص پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے یا نہیں اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو معمولی قانون سازی سے بحال نہیں کیا جا سکتا۔

ضرور پڑھئے: نیب اور پنجاب حکومت آمنے سامنے آگئے

عدالت نے انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت منگل 13 فروری تک ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت پر ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجا اور اٹارنی جنرل دلائل دیں گے۔