سعودی عرب خواتین کیلئے کیسا ملک ہے؟

سعودی عرب خواتین کیلئے کیسا ملک ہے؟


ریاض( 24نیوز ) سعودی عرب خواتین کیلئے کیسا ملک ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو دنیا بھر کے سماجی اداروں کیلئے حل طلب ہے،وقتاً فوقتاً اس پر اندازے بھی لگائے جاتے ہیں،ریسرچ سروے بھی کرائے گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی اٹھانے پرسعودی عرب کے فیصلے کو عالمی سطح پر سراہا گیا تاہم وہاں خواتین پر پابندیاں اب بھی موجود ہیں جن میں خاص کر مرد کی سرپرستی کا نظام شامل ہے جس کے تحت کسی عورت سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا اختیار اس کے والد، بھائی، خاوند یا بیٹے کے پاس ہے۔

ان پابندیوں کے مثال چند دن قبل ایک مرتبہ پھر اس وقت منظر عام پر آئی جب ایک جواں سال سعودی خاتون نے بینکاک میں ایک ہوٹل کے کمرے میں خود کو بند کر کے یہ کہا کہ اگر انھیں واپس گھر ( سعودی عرب ) بھیجا گیا تو انھیں قید کیے جانے کا خطرہ ہے،سعودی خواتین کو پاسپورٹ کی درخواست دینے، بیرون ملک سفر یا حکومتی سکالرشپ پر بیرون ملک پڑھنے، شادی، قید سے رہائی حتیٰ کہ استحصال کا شکار خواتین کی پناہ گاہوں سے باہر آنے کے لیے بھی اپنے کسی مرد رشتہ دار کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

شاہ سلمان نے ایک حکم نامے کے ذریعے خواتین کے لیے چند سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے سرپرست کی اجازت کی شرط کو ختم کیا- 2018 میں سماجی کارکن ثمر بداوی اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ایک پناہ گاہ منتقل ہو گئی تھیں اور اس کی وجہ انھوں نے اپنے والد کی طرف سے ان پر ہونے والا مبینہ جسمانی تشدد بتایا تھا۔

بعدازاں انھوں نے اپنے والد کی سرپرستی ختم کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی،ان الزامات کی بنیاد پر سنہ 2010 میں عدالت نے بداوی کو قید کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے سات ماہ قید خانے میں گزارے۔ بعدازاں سماجی کارکنان کی جانب سے اس مقدمے کی طرف توجہ مبذول کرانے پر حکام نے ان پر عائد الزامات خارج کر دیے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer