"عمران نیازی ہمت ہے تو علیمہ خان پر جے آئی ٹی بنائیں"



لاہور(24نیوز) حمزہ شہباز شریف نے حکومت پر تنقید کرتے ہو ئے  کہا کہ ہم آج اٹیمی قوت ہوکربھکاری بنے ہیں، فارن ریزرو 23 ارب سے11ارب پرآگئےہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا میڈیا سےگفتگوکرتے ہو ئے کہنا تھا کہ ہم آج اٹیمی قوت ہوکربھکاری بنے ہیں، ایٹمی طاقت کو بھکاری کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، فارن ریزرو 23 ارب سے11ارب پرآگئےہیں،ہم نے حکومت چھوڑی تو گروتھ ریٹ 6 فیصد تھا جو آج 3 فیصد ہے،پاکستان کی تاریخ میں ڈالر کی قیمت سب سے زیادہ بڑھی،ہم جب گئے تھے تو زر مبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر تھے، اب ملکی معیشت کا جو حال ہے اس پر سب کو تشویش ہے،پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں لوگوں کے اربوں ڈوب گئے کوئی داد رسی کرنے والا نہیں ،  روپے کی قیمت تاریخ کی سستی ترین ہو گئی،ہماری اسٹاک مارکیٹ کاشمار دنیا کی بدترین اسٹاک مارکیٹ میں ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کہتے تھے کہ خود کشی کرلیں گے قرض نہیں لیں گے، آئی ایم ایف کا قرض تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے،موجود حکومت جو ترقیاتی کام کر رہی ہے سب کے سامنے ہیں ،گھردینے کا وعدہ کرکےغریبوں کی جھونپڑیاں بھی گرا دیں، جبکہ میٹرو عام آدمی کی سواری ہے،اس کو بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے، ایک طرف پناہ گاہیں بناتے ہو تو دوسری طرف گھر گراتے ہو ، ان کا کہنا تھا کہ وزیر کہتے ہیں سرکاری ہیلی کاپٹر پر نیب کا عمران خان سے پوچھنا توہین ہے، دوسری طرف معیشت وینٹی لیٹرپرہے اب حکمران نیب کےپیچھے چھپنا چھوڑ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کواین آراو دیا گیا،آپ سے این آر او کون مانگتا ہے ،عمران نیازی ہمت ہے تو علیمہ خان پر جے آئی ٹی بنائیں، آج ملک میں 12،12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ واپس آگئی ہے،ابھی تو 5 ماہ ہوئے ہیں عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں،قوم آپ سے آپ کے جھوٹ کا ضرور حساب لے گی،آپ نے ترقیاتی بجٹ میں 400ارب کا کٹ لگایا ہے،آپ کے ورزا روز ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہیں،آپ اپنے جھوٹ کے بوجھ تلے خود دب جائیں گے، سپریم کورٹ نے بھی انہیں نااہل اور نکما کہا ہے، حکومت کو گرانے کا ہمارا کو ئی ارادہ نہیں ، ہم نے اپنے وعدے پورے کئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہاں گئے جنوبی محاذ والے اور عمران خان کے وعدے؟شہبازشریف نےکہاصوبہ بنانےمیں اپوزیشن آپ کی غیرمشروط حمایت کرتی ہے،اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کی بدتمیزی پر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں،ان کی بدتمیزی کا نشانہ پہلے اپوزیشن تھی اب صحافی بھی ہیں۔