تبدیلی سرکارکی قائم شدہ ٹاسک فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

تبدیلی سرکارکی قائم شدہ ٹاسک فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان


اسلام آباد ( 24 نیوز ) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے 100 روزہ پلان پر عملدرآمد کیلئے ایک درجن سے زائد ٹاسک فورسز ،  کئی ایک ورکنگ گروپس اور ایکشن پلان کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں، تبدیلی سرکارنیاپاکستان بنانےکےلیے سرتوڑکوششیں کررہی ہے۔ مدینہ کی طرزکی فلاحی ریاست کےقیام اوردیگرانقلابی اقدامات کےلیےبنائی گئی ٹاسک فورسز کوئی خاص پیش رفت نہ دکھاسکیں۔

100روزہ پلان کے6نکات کےتحت ایک درجن سےزائدٹاسک فورسز قائم کی گئیں۔ ٹاسک فورسزکےساتھ ساتھ پروگریس ٹریکرکےطورپرایک ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی۔ ویب سائٹ پرموجودکارکردگی کےمطابق نیب اصلاحات، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، ماحولیاتی تبدیلی، قومی بچت مہم اور سرکاری و تاریخی عمارات سے متعلق ٹاسک فورسز کی تھوڑی بہت کارکردگی تونظرآرہی ہےلیکن دیگرمعاملات پربنائی گئی ٹاسک فورسز کی کارکردگی معمول کی تقرریوں و تعیناتیوں اور اجلاسوں تک ہی محدودہے۔

پی ٹی آئی حکومت نےمقررہ اہداف کےحصول کےلیے نیب کو مزید خود مختار بنانے کے حوالے سے قوانین کا جائزہ لینے، لوٹی گئی رقم کی بیرون ملک سے واپسی، دیوانی و فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات، سول سروس اصلاحات، قومی بچت مہم، سرکاری و تاریخی عمارات کے عوامی استعمال سے متعلق اصلاحات، فاٹا اصلاحات عملدرآمدسےلےکرکراچی ٹرانسفارمیشن، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، سیاحت، توانائی، قومی واٹر پالیسی اور ماحولیاتی تبدیلی پربھی ٹاسک فورسز بنائیں تھیں۔

حکومت نے اپنے 100 روزہ پلان کے حوالے سے خود تسلیم کیا تھا کہ وہ اس پر کم و بیش 50 فیصد عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہوئی۔ 100 روز گزر جانے کے بعد ہاؤسنگ، کراچی، کاروباری طبقے کو مراعات دینے سمیت مختلف ٹاسک فورسز کے اجلاس تو ہو رہے ہیں لیکن پروگریس ٹریکر پر ان کی اپ ڈیٹس آنا بند ہوگئی ہیں۔

Malik Sultan Awan

Content Writer